تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 432 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 432

تاریخ احمدیت۔جلد 23 432 سال 1965ء لیا۔خدا کے فضل سے اسلام کی تعلیم کی برتری کا شامل ہونے والوں کی اکثریت نے اعتراف کیا۔عیسائیت کے نمائندوں نے نوجوانوں کے سوالات خاص کر خدا کی ذات، گناہ، کفارہ، جزا سزا وغیرہ سے تعلق رکھنے والوں کے جوابات دینے سے گریز کیا۔انہوں نے اقرار کیا کہ عیسائیت کے عقائد عقل کے خلاف ہیں۔مگر ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنی نجات کے لئے ان پر ایمان لائے۔اس سے نوجوانوں کی کب تسلی ہو سکتی تھی۔کئی طلباء نے ان عقائد کے متعلق مختلف پیرایہ میں سوالات کئے۔مگر ہر بار پادریوں نے ٹال دیا۔یہی وجہ ہے کہ عام عیسائی نوجوان عیسائیت سے بغاوت کر کے لامذہب ہو جاتے ہیں۔اس کی ساری ذمہ داری عیسائیت کے غیر فطری عقائد اور پادریوں پر ہے۔اس کا نفرنس میں اسلام کا بول بالا رھا۔اس سال الیگزینڈر ڈوئی کے شہر زائن ZION میں ایک ذیلی مشن کا قیام جماعت احمدیہ کی 31 طرف سے عمل میں آیا۔جماعت احمدیہ کی سالانہ کنونشن ۴، ۵ ستمبر کو ڈیٹن میں منعقد ہوئی جس میں دوسو نمائندگان شریک ہوئے۔کنونشن کا ذکر مقامی پریس میں بھی ہوا۔حلقہ پٹس برگ میں ایک شہر ہنٹنگٹن کے ایک کالج میں مکرم عبد الرحمن خان صاحب بنگالی اور سید جواد علی صاحب نے اسلام کے موضوع پر نہایت پر اثر اور معلومات افزا لیکچر دیئے۔اور حاضرین کے سوالات کے نہایت تسلی بخش جوابات دیئے۔جن سے پروفیسرز اور طلباء بہت محظوظ ہوئے۔مبلغین احمدیت نے کالج کے وائس پریذیڈنٹ تک بھی پیغام حق پہنچایا اور دینی لٹریچر پیش کیا۔مکرم عبدالرحمان خان صاحب بنگالی مبلغ انچارج امریکن مشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا:۔پاکستان اور ہندوستان میں جنگ شروع ہونے پر تمام جماعت ہائے احمد یہ امریکہ اور افراد کو پاکستان کی حفاظت ، سلامتی اور جنگ میں کامیابی کے لئے دعا پر مشتمل سرکلر بھجوایا گیا۔اس آزمائشی وقت پر جناب صدر صاحب حکومت پاکستان اور امریکہ میں پاکستانی سفیر صاحب کو ہمدردی، دلی دعاؤں اور پوری مدد دینے پر مشتمل مضمون پی بھجوائے گئے۔جناب صدر صاحب حکومت پاکستان کی طرف سے اس خط کے جواب میں جو خط موصول ہوا۔اللہ تعالیٰ کے شکریہ کے جذبات سے پر تھا۔انگلستان ۱۹۶۵ء میں سیرالیون کے وزیر اعظم انگلستان تشریف لائے۔مکرم بشیر احمد صاحب رفیق نے