تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 424
تاریخ احمدیت۔جلد 23 واپس تشریف لے گئے۔“ 18 424 سال 1965ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی اور آریہ سماج کی تباہ حالی ۱۹۰۳ء میں جبکہ دیانندی تحریک زوروں پر تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی: یہ خیال مت کرو کہ آریہ یعنی ہندو د یا نندی مذہب والے کچھ چیز ہیں جس مذہب میں خدا کے ساتھ مکالمہ کا تعلق نہیں اور صدق وصفا کی روح نہیں اور آسمانی کشش اُس کے ساتھ نہیں اور فوق العادت تبدیلی کا نمونہ اُس کے پاس نہیں وہ مذہب مُردہ ہے، اس سے مت ڈرو ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب کو نابود ہوتے دیکھ لو گئے۔اس پیشگوئی کے عین مطابق شری ویریندر جی ایڈیٹر اخبار پرتاپ ( جالندھر) نے اپنے اخبار کی ۷ فروری ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں آریہ سماج کی تباہ حالی کا نقشہ کھینچتے ہوئے بیان دیا کہ: کوئی وقت تھا کہ پنجاب میں اس کا طوطی بولتا تھا، لیکن آج یہ ایک بے جان لاش بن گیا ہے“ ’وہ دن دور نہیں جب اس کا کہیں نام ونشان تک نظر نہ آئیگا“ ایڈیٹر صاحب پرتاپ کے اس بیان کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔آریہ سماج بڑھ رہا ہے۔لیکن کدھر؟ تباہی اور بربادی کی طرف پچھلے آٹھ برس میں پنجاب میں آریہ سماج کی سرگرمیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو کوئی بھی بے لاگ شخص یہ کہے بغیر نہ رہ سکے گا کہ جہاں تک اس صوبہ کا تعلق ہے آریہ سماج ایک بے جان جماعت بن گیا ہے کوئی وقت تھا کہ پنجاب میں اس کا طوطی بولتا تھا۔کوئی تحریک پنجاب میں ایسی نہ چل سکتی تھی جس پر آریہ سماج اثر انداز نہ ہوتا تھا۔اسے ایک زبر دست طاقت سمجھا جاتا تھا۔دوسرے صوبوں کی آریہ سماجیں بھی رہنمائی کے لئے پنجاب کی طرف دیکھا کرتی تھیں اور سمجھا یہ جاتا تھا کہ اس دیش میں آریہ سماج کا کوئی مرکز ہے تو پنجاب۔لیکن آج حالت کیا ہے؟ یہ ایک بے جان لاش بن گیا ہے۔وہ اس لئے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں گزشتہ آٹھ برس سے اس کی باگ ڈور چلی آرہی ہے وہ اسے اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔آریہ سماج کا ہت ان کے سامنے نہیں ہے۔ان کا صرف ایک ہی نشانہ ہے کہ کسی طرح آریہ سماج ان کے قبضہ میں رہے۔جب تک آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب پر ان کا قبضہ نہ ہوا تھا نہیں کوئی نہ پوچھتا