تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 410
تاریخ احمدیت۔جلد 23 410 سال 1965ء چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر مجاہد امریکہ کے منجھلے بھائی تھے۔تقسیم ملک سے قبل کئی سال تک خدام الاحمدیہ دہلی کے سرگرم ممبر رہے۔تقسیم کے فوراً بعد پُر آشوب ماحول میں حفاظت قادیان کے لیے کراچی کے احمدی نوجوانوں کے گروپ کو لے کر مرکز میں پہنچے اور قیمتی خدمات سرانجام دیں۔کراچی میں بھی کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ڈھا کہ میں کئی سال تک خدام الاحمدیہ کے قائد کا فریضہ بجالاتے رہے۔حتی کہ جب ان کی عمر چالیس سال سے متجاوز ہوگئی تو صدر خدام الاحمد یہ مرکز یہ کی استثنائی ہدایت کے ماتحت قیادت انہی کے سپر در ہی۔عمر کے آخری ایام میں قریباً آٹھ مہینے تک جماعت ڈھاکہ کے قائم مقام امیر بھی رہے۔۲۰ مئی ۱۹۶۵ء کو قاہرہ کے قریب پی۔آئی۔اے کے ایک المناک حادثے کا شکار ہوئے۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ایک تعزیتی خط میں رقم فرمایا :۔برادرم لطیف طاہر سے میرے گہرے مخلصانہ تعلقات تھے ان کا ذہن ایک خاص جلا اور کشش رکھتا تھا۔اخلاق بہت پیارے اور دلکش تھے۔ان کی صحبت میں کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔بلکہ اختتام پرشنگی کا احساس باقی رہتا تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں اعلی علیین میں اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ دے۔اس سے زیادہ کیا دعا ہم ان کے لیے کر سکتے ہیں۔اُن کے انخلا سے دل کا ایک خانہ مستقلاً خالی ہو گیا۔الحاج مولوی محمد اسماعیل صاحب وکیل با ئیکورٹ یاد گیر حیدر آباد دکن ( وفات : ۲۰ مئی ۱۹۶۵ء) حضرت الحاج سیٹھ حسن صاحب کے داماد تھے اور انہی کے خرچ پر قادیان میں دینی تعلیم حاصل کی۔ان کا وجود جنوبی ہند کی احمدی جماعتوں کے لیے بہت مفید تھا۔ساری عمر قلمی ولسانی جہاد میں گزری۔کامیاب مناظر تھے۔دینی کتابوں سے والہانہ عشق تھا۔اُن کا سرمایہ کتا بیں ہی تھیں۔کتب کو جمع کرنے اور سلیقہ سے سجانے کے خوگر تھے جو نہی فرصت ملتی تصنیف و تالیف میں منہمک ہو جاتے۔آپ کے قلم سے ۱۶ کے لگ بھگ علمی رسائل اور کتب شائع ہوئیں۔جن میں خطبات جمعہ، عیدین و نکاح بہت مشہور ہے۔جو حضرت مصلح موعود کے ۱۹۱۴ء تا ۱۹۵۴ء یعنی چالیس سالہ خطبات کا نہایت گرانقد رانڈیکس ہے۔