تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 403
تاریخ احمدیت۔جلد 23 403 سال 1965ء 56 اور صدقہ و خیرات سے جان بچی۔آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان حوادث کا حقیقی سبب رشوت ہے۔اس لیے پٹوار کو چھوڑ دیا اور محکمہ کالرکی ڈنڈوت ضلع جہلم میں بحیثیت منشی ملازم ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کی قبول احمدیت اور پہلے سفر قادیان اور بیعت کے روح پرور حالات آپ ہی کے قلم سے درج ذیل کیے جاتے ہیں۔میں ڈنڈوت میں محکمہ کالری میں ملازم تھا۔وہاں مولوی عطا محمد صاحب جہلمی اوورسیئر تھے ان کے پاس سے اخبار الحکم کا پرچہ ملا۔جس میں حضرت صاحب کی تفسیر سورۃ فاتحہ درج تھی۔میں نے اُس کا مطالعہ کیا بعد میں دل میں نماز پڑھنے کا خیال پیدا ہوا۔اُسی وقت کپڑے دھلائے اُن کو پہنا نماز پڑھی۔بعد ۂ روٹی کھائی۔شام کو ان کے پاس گیا مزید معلومات حاصل کیں ایام الصلح اور ضرورت الامام کتاب دی۔آخر تاکید کی کہ اس شخص کو دیکھنا چاہیے۔میں نے چھٹی کی درخواست دے دی۔انیس روز کی رخصت منظور ہوئی قادیان گیا۔جب ملکوال گیا تو ایک ہندو نے مجھے کہا کہ ”مرزے کی شکل تبدیل شدہ ہے۔چہرہ کسی کو دکھاتے نہیں“۔مجھے غصہ آیا۔قریب تھا کہ لڑائی ہو جاوے لیکن لوگوں نے لڑائی رکوا دی اس نے مجھ سے پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا کہ لاہور سے آگے۔اُس نے کہا کہ قادیان جاتے ہو۔میں نے کہا، ہاں۔تو اس نے پہلی بات کو پھر دھرایا۔جب میں بٹالہ آیا تو ایک مولوی صاحب کو دیکھا کہ وعظ کر رہے ہیں کہ قادیان نہ جانا۔لیکن میں اس طرف متوجہ نہ ہوا۔آخر دیوانی وال کے تکیے پر گیا۔وہاں مسجد میں نماز پڑھی۔ان ملنگوں نے جو چوپٹ کھیل رہے تھے۔پوچھا کہ کہاں سے آتے ہو۔میں نے کہا کہ ضلع جہلم سے۔اس نے کہا کہ مرزے نے بڑا کام کیا کہ چاروں کونوں سے سب کو اکٹھا کیا۔آخر وہاں سے چل کر عصر کے وقت قادیان آیا۔اتفاقاً بھیرہ کے نجم الدین صاحب مل گئے۔جو دو ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں کتا بیں بیچتے ہوئے آئے تھے۔وہ مجھے مسجد مبارک میں جو ان دنوں چھوٹی تھی لے گئے۔اس وقت سورج غروب ہور ہا تھا۔حضرت صاحب بمع احباب وہاں تشریف رکھتے تھے۔مجھے ان کے چہرے کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سورج کی کرنوں سے ان کے چہرے کی کرنیں زیادہ روشن ہیں۔میں نے چونکہ احوال الآخرت (از حافظ محم لکھو کے ) پڑھی ہوئی تھی جب میں نے حضرت صاحب کا حلیہ ملایا تو بالکل اس کے موافق تھا۔اتنے میں خواجہ کمال الدین صاحب نے اعلان کیا کہ اگر کسی نے بیعت کرنی ہو تو کر لے۔چنانچہ میں