تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 404
تاریخ احمدیت۔جلد 23 404 سال 1965ء نے اور دو آدمیوں نے حضرت صاحب کی بیعت کر لی۔بعدہ حضرت صاحب نے دعا مانگی۔حضرت صاحب نے خواجہ صاحب سے (ایک مقدمہ کے ) حالات دریافت فرمائے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ حضور کوئی صورت بچاؤ کی نظر نہیں آتی۔حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ خواجہ صاحب میں آپ کا کہا مانوں یا عالی بارگاہ کا ، ادھر سے تو مجھے آواز آتی ہے کہ تم بری ہو۔آپ سمجھتے ہیں کہ بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔آخر کار مقدمہ خارج ہوا اور آپ بری ہو گئے۔ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور میں بہت تنگ ہوں سارا گاؤں مخالف ہے۔صرف دو بیل رہ گئے تھے وہ بھی چوری ہو گئے۔ایک دوسرے نے بھی اپنی مصیبت کا ذکر کیا۔فرمایا: ”اے بھائیو ! تم ابھی بچوں کی مانند ہو تم پر مصائب آئیں گے۔تم کو چاہیے کہ خدا کی درگاہ میں گڑ گڑا کر دعائیں مانگو۔وہ وقت قریب ہے کہ جب تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔تمہاری درخواست بارگاہ الہی میں ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔بلکہ ابھی تم کو بہت سی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔وہ کیا؟ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک سکول بنانا چاہتا ہوں تم کو اولادیں وقف کرنی پڑیں گی۔تم سے اولا دطلب کروں گا۔جن کو اس سکول میں تعلیم دوں گا۔پھر ان کو تعلیم حاصل کرا کے غیر ممالک میں بھیجوں گا تا کہ وہ دوسرے ملکوں میں اسلام کی اشاعت کریں۔“ میں ۱۷۔۱۸ روز تک رہا۔حضرت اقدس کی مٹھی چاپی بھی کی۔جب میں جانے لگا تو خود ہی فرمایا کہ میں تیرے واسطے پھر بھی دعا کروں گا۔اس وقت میری داڑھی اور مونچھ کچھ نہ تھی۔اس کے علاوہ کوئی بات یاد نہیں“۔اولاد ۲۔اللہ دتہ صاحب(بغیر شادی کے جوانی میں ہی فوت ہو گئے ) غلام محمد صاحب مرحوم شریف بی بی صاحبہ مرحومہ اہلیہ صوبیدار غلام حسین صاحب 58