تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 402 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 402

تاریخ احمدیت۔جلد 23 402 سال 1965ء مظفر گڑھ کے علاقے میں جماعتی خدمات انجام دیتے رہے۔ریٹائر ڈ ہونے کے بعد آپ نے مستقل رہائش قادیان میں اختیار کرلی اور محلہ دار الفتوح میں پریذیڈنٹ حلقہ مقرر ہوئے اور تقریباً ۱۸ برس تک صدر انجمن احمد یہ قادیان کے دفتر جائیداد، پراویڈنٹ فنڈ میں مصروف عمل رہے۔آپ ملنساری اور خوش مزاجی کے باعث اپنے تمام حلقہ احباب میں مقبول تھے۔ہجرت کے بعد لاہور تشریف لے آئے اور عرصہ تک جودھامل بلڈنگ میں فرائض امامت سرانجام دیتے رہے۔نیز نماز فجر کے بعد درس قرآن دیتے اور شام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات پڑھ کر سناتے تھے۔تلاوت پُر سوز لہجے میں کرتے۔اٹھتے بیٹھتے ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے۔اگر چہ آپ کی دنیوی تعلیم صرف مڈل تک تھی مگر عربی زبان اور دیگر دینی علوم میں سلسلے کا لٹریچر اپنے ذاتی شوق سے مطالعہ کر کے کافی مہارت پیدا کر لی تھی۔گفتگو کے دوران بڑے عالمانہ طریق سے جواب دیتے تھے اور امتحان انصار اللہ میں ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے تھے۔آپ لاہور میں اپنے بیٹے چوہدری محمد افضل صاحب کے ہاں مقیم تھے۔۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو آپ ربوہ تشریف لے آئے اور ے دسمبر ۱۹۶۵ء کو انتقال فرمایا اور مقبرہ بہشتی میں سپردخاک کیے گئے۔اولاد مولوی نور احمد صاحب ریٹائر ڈ آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ، چوہدری محمد اسلم صاحب، چوہدری محمد اکرم صاحب، چوہدری محمد افضل صاحب، مولوی محمد اجمل صاحب شاہد، چوہدری محمد ارشد صاحب، اقبال بیگم صاحبہ، سعیدہ بیگم صاحبہ، رفیقہ بیگم صاحبہ - حضرت مولوی احمد علی صاحب دوالمیال 53 ولادت: تقریباً ۱۸۷۰ء بیعت ستمبر ۱۹۰۳ء وفات: ۱۰دسمبر ۱۹۶۵ء دوالمیال ضلع جہلم میں میاں محموداحمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے آپ کے خاندان کا بیشتر حصہ اس بستی سے دو میل جانب غرب ڈہری سیداں میں آباد ہے۔بیعت سے قبل آپ اہلِ حدیث فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کی ابتدائی تعلیم پرائمری تھی۔کچھ عرصہ بھیرہ میں رہ کر علم حاصل کیا۔گلستان و بوستان پڑھی اور صرف و نحو اور عربی کا علم مولوی خان ملک صاحب کھیوالی سے سیکھا۔تعلیم کے بعد چند سال سکول میں مدرس رہے۔بعد ازاں کچھ عرصہ محکمہ پٹوار میں ملازمت کی اس پیشہ میں رشوت عام تھی۔ایک مرتبہ آپ کو سانپ نے ڈس لیا۔مگر خدا تعالیٰ نے رحم فرمایا دوسری مرتبہ ہیضہ سے بیمار ہو گئے