تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 23 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 23

تاریخ احمدیت۔جلد 23 23 سال 1965ء حضرت اقدس کا ایک رؤیا اپنی بیماری اور پھر شفا کے متعلق ہے۔۔۔اس رویا سے صاف ظاہر ہے کہ حضور کی بیماری کا علاج دواؤں سے نہیں بلکہ دعاؤں سے ہو گا۔حضور کا یہ رویا الفضل ۲۵ را گست ۱۹۶۴ء میں بالتفصیل درج ہے۔۔۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ احباب جماعت پر حضرت اقدس کی کامل شفایابی کے لئے دعا کی کتنی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔پس خاکسار یہ درخواست کرتا ہے کہ مجلس شوری کے نمائندگان جو در حقیقت تمام جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور اپنی جماعتوں میں واپس جا کر خاص اجتماعی دعاؤں اور انفرادی دعاؤں کا اہتمام کریں اور التزام کے ساتھ اس کو جاری رکھیں تا ہما را آسمانی آقا جو اس وقت ہماری طرف رجوع برحمت ہوا ہے ہماری انتہائی گریہ وزاری کو دیکھ کر پورے جوش کے ساتھ اپنی رحمت اور فضل نازل فرمائے اور ہمارے پیارے امام اور محسن کو کامل و عاجل شفا عطا فرمادے۔آمین اللهم آمین۔خاکسار یہ بھی عرض کرتا ہے کہ جس طرح رویا میں حضور کو دکھایا گیا ہے جماعتیں اسی رنگ میں دعا کا اہتمام کریں اور رؤیا والے الفاظ میں دعا کریں کیونکہ یہ بھی سنت اللہ ہے کہ جب وہ اپنے کسی برگزیدہ کو رویا میں دعا کے الفاظ بتاتا ہے تو پھر وہ اس دعا کو ضرور شرف قبولیت عطا فرماتا ہے وہ یقیناً اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے کہ وہ ہے ہی ارحم الراحمین مگر سوال یہ ہے کہ بندے بھی اپنے آپ کو اس کی رحمت کا اہل بنائیں اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام تعلیم اور نصائح پر پوری طرح کاربند ہونے کی کوشش کریں۔آپس میں محبت اور الفت کا سلوک کریں نہ کہ دوسرے کی عیب چینی اور غیبت اور بدگمانی اور بہتان تراشی کرنے والے ہوں اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما کر ہمارے محسن امام کو کامل شفا اور فعال زندگی عطا فرمائے۔آمین اللهم آمین۔“ شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے اجتماعی پُر سوز دعا کرانے سے قبل حسب ذیل الوداعی تقریر فرمائی:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے لئے یہ معیار مقرر فرمایا ہے کہ اسلام کی زندگی ہم سے ایک فدیہ چاہتی ہے اور وہ کیا ہے؟ ہمارا اس کی راہ میں مرنا۔اور فرمایا سے در ره عشق محمدؐ این سرو جانم رود ایس تمنا ایں دعا این در دلم عزم صمیم