تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 394
تاریخ احمدیت۔جلد 23 394 سال 1965ء تحریر فرماتے ہیں کہ:۔میں نے بچپن میں اپنے والد بزرگوار سے سنا ہوا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔لیکن بعد ازاں آپ کے مخالفین سے ہے۔لیکن عجیب عجیب باتیں سنیں۔کوئی کہتا تھا کہ امام مہدی عرب میں پیدا ہوں گے۔اُن کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہو گا۔مرزا صاحب پنجاب میں پیدا ہوئے والدین کے نام بھی عبد اللہ اور آمنہ نہیں ہیں۔کوئی کہتا امام مہدی وہ ہو گا جس کو بچپن میں سال پاکس کا ٹیکا کیا جائے گا تو اس کے بازو سے خون کی بجائے دودھ نکلے گا۔اس کو اسی وقت مروا دیا جائے گا تا کہ وہ عیسائیوں کی نہ صلیبیں توڑ سکے نہ اُن سے جنگ کر سکے۔کوئی کہتا تھا مرزا صاحب ہر وقت دستانے پہنے رہتے ہیں کیونکہ اُن کو کوڑھ کی بیماری ہے۔کوئی کہتا کہ مرزا صاحب بجائے محمد کے اپنا کلمہ پڑھواتے ہیں۔کوئی کہتا کہ مرزا صاحب کوئی بڑے عالم بھی نہیں۔مولوی نور دین صاحب سے مضامین لکھوا لیتے ہیں۔انگریزی مضامین لکھوانے کے واسطے ایک انگریز چھپا کر رکھا ہوا ہے۔مسلمان علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا ہوا ہے۔ایسے بیانات نے مجھے احمدیت سے اس قدر بدظن کر دیا کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ میں کبھی احمدی ہو جاؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے نواز ا اور محض اپنے فضل و کرم سے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ میں آخر کا ر احمدی ہو گیا۔میں امریکن مشن ہائی سکول سیالکوٹ کی پانچویں جماعت میں تھا کہ ماسٹر بدر دین صاحب نے مجھے آغا محمد باقر خان قزلباش رئیس اعظم و میونسپل کے ہاں ان کے دو چھوٹے بھائیوں کا ٹیوٹر مقرر کروا دیا اور مجھے بورڈنگ ہاؤس چھوڑ کر آغا صاحب کے ہاں رہنا پڑا۔ایک دن میں اُن کی بیٹھک کے باغیچہ میں کھڑا تھا کہ سامنے بازار سے کثیر التعدادار تھیاں اور جنازے گذر رہے تھے جو طاعون کی وباء سے ہلاک ہوئے تھے۔انہیں دیکھ کر میرا دل کانپ اٹھا۔خیال آیا کہ جب شہر میں اتنے لوگ مر رہے ہیں تو خدانخواستہ مجھ پر بھی تو اس مرض کا حملہ ہو سکتا ہے۔اتفاقا مجھے قرآن کریم کے بارہ میں خیال آ گیا جو میں نے گاؤں میں پڑھا تھا لیکن تلاوت جاری نہ رکھنے کی وجہ سے وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ میری تلاوت صحیح ہے۔اگر خدانخواستہ اس حالت میں فوت ہو جاؤں تو قیامت کے روز پہلا سوال قرآن کریم کے بھولنے کے بارہ میں ہوگا۔جس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکوں گا۔پھر سوچنے لگا کہ صحیح تلاوت کہاں سے اور کس سے سیکھی جاوے۔اگر کسی مسجد کے مُلا سے پوچھوں تو وہ کہے گا اتنے بڑے ہو