تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 391
تاریخ احمدیت۔جلد 23 391 سال 1965ء کے ختم ہونے کے اگلے دن صبح تقریباً آٹھ نو بجے والد صاحب کی طبیعت میں اچانک خاص قسم کا ضعف پیدا ہوا۔وہ گھر میں گر پڑے۔عاجز اسی وقت گھر پہنچا۔ڈاکٹر صاحب کو دکھا یا علاج شروع ہو گیا سب بہن بھائی معہ اہل و عیال پہنچ گئے۔اس عرصہ میں کثرت پیشاب کی تکلیف شروع ہوگئی۔نیند بالکل اڑ گئی۔جمعہ کی نماز میں دعا کی تحریک کی گئی۔نماز جمعہ کے معا بعد ڈیڑھ بجے نیند آئی اور پھر آنکھ کھل گئی۔پھر متواتر نیند آنے لگی اور اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا یہ نشان ہمیں دکھایا۔الحمد للہ علاج ابتداء میں محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب پھر مسلسل محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے دو ماہ تک والد صاحب کا علاج کیا۔جس سے آرام آگیا۔مگر اس دوران کافی کمزور ہو چکے تھے۔۱۰ را گست ۱۹۶۵ء کو طبیعت بہتر معلوم ہوتی تھی۔مگر پانچ بجے شام اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آ گیا۔آپ کے منہ میں پانی ڈالا گیا۔دو گھونٹ پینے کے بعد اپنے مولیٰ کے دربار میں تشریف لے گئ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وفات پر سب بہن بھائی پہنچ گئے۔سوائے مولوی عبد القادر صاحب درویش قادیان کے جو نہ پہنچ سکے۔اولاد از اہلیہ اول 38 عبدالرب صاحب، عبدالرحمن ، ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب، صوبیدار عبدالمنان صاحب، مولوی عبدالقادر صاحب دانش درویش قادیان، عبدالستار صاحب،عبدالرشید صاحب، امتہ العزیز بیگم صاحبہ اہلیہ حافظ شفیق احمد صاحب نجیب آبادی ، عبدالسلام صاحب اولاد از اہلیہ دوم محمد عبدالشکور صاحب (المعروف شکور بھائی چشمے والے) ، امتہ الرشید بیگم صاحبہ اہلیہ محد یمین خان پیام شاہجہانپوری، امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی، امتہ اللطیف بیگم صاحبہ اہلیہ عبدالکریم شاد صاحب نیلہ گنبد، امتہ الحی صاحبہ 39 حضرت مولوی محمد افضل صاحب اوجلوی دھرمپورہ لاہور ولادت: ۱۸۸۷ء بیعت : ۱۹۰۳ء 10 وفات : ۵ نومبر ۱۹۶۵ء میاں محمد افضل صاحب سکنه او جله ضلع گورداسپور حال مکان نمبر ے گلی نمبر ۵۷ نیا دھرم پورہ لا ہور