تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 392 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 392

تاریخ احمدیت۔جلد 23 392 سال 1965ء نے ۱۸۹۴ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ان ایام میں گو آپ بچے ہی تھے اور پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔مگر چونکہ آپ کے تایا حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی پٹواری اور آپ کے حقیقی چامنشی عبدالمجید صاحب بیعت کر چکے تھے اور ۳۱۳ صحابہ کرام میں شامل تھے اسی طرح آپ کے والد ماجد منشی عبدالحق صاحب پٹواری بھی بیعت کر چکے تھے۔اس لئے آپ کا بیعت کر لینا آسان تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ جن ایام میں کرم دین سکنہ بھیں کے ساتھ مقدمات چل رہے تھے۔ان ایام میں میری بیوی نے بھی بیعت کر لی تھی گو وہ ان ایام میں بہت کم عمر تھی مگر بڑی عورتوں کے ساتھ مل کر اس کے لئے بھی بیعت کرنا آسان تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔وو۔42 ” جب میں نے سکول چھوڑا تو اس وقت سب سے پہلامنشی رسالہ تحیۃ الاذہان کا میں ہی مقرر ہوا تھا اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا تھا آپ کے بھتیجے فیض الرحمان صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ان کو میں نے ایک درویش کی حالت میں پایا۔وہ اپنے کام میں مگن رہتے تھے۔دنیا داری سے بے رغبتی تھی۔نہایت کم گو تھے۔صرف ضرورت کے وقت بات کرتے تھے۔کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔خود نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کیا کرتے تھے۔انکی ایک مختصر سی لائبریری بھی تھی۔اس میں بیشتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف تھیں۔ان کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہتے الفضل اخبار باقاعدگی سے منگواتے اور اس کا ایسے مطالعہ کرتے تھے جیسے کوئی درسی کتاب توجہ سے پڑھی جاتی ہے۔الفضل کے ابتدائی لفظ سے شروع کرتے اور آخری لفظ تک نہایت انہماک سے مطالعہ کرتے تھے۔ہر معاملہ میں وقت کی سخت پابندی کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنانے کی کوشش کرتے۔آپ نے نہایت تنگ دستی کی زندگی بھی گزاری لیکن کبھی اس تنگی کا شکوہ نہ کیا۔اپنی آمدنی کے مطابق چندہ با قاعدگی سے آخری وقت تک ادا کرتے رہے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی شکر گذاری کے کلمات ہی زبان سے ادا کیے۔ان کی اپنی اولاد کو ئی نہیں تھی۔انکی اہلیہ کا نام سردار بیگم تھا۔آپ کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بڑی ہو کر فوت ہوگئی۔اسکے بعد آپ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔آپ کے ایک ربیب تھے جن کا نام احمد جان تھا۔ان کی اولا داس وقت موجود ہے۔