تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 390
تاریخ احمدیت۔جلد 23 390 سال 1965ء کے مبلغ کے طور پر کام کریں۔اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کی اس خواہش کو اس رنگ میں پورا کیا کہ آج جبکہ والد صاحب وفات پاچکے ہیں آپ کے یہ تینوں لڑکے مرکز احمدیت قادیان ، ربوہ میں سلسلہ کی خدمت میں مصروف ہیں۔والد صاحب کی یہ خواہش بھی ان کی زندگی میں ہی پوری ہو گئی۔مکرم عبد الرحمن صاحب دہلوی کے ذریعہ مکرم لیفٹینٹ بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے اسلام قبول کیا۔مولوی عبدالقادر صاحب فاضل حال درویش نے ایام جنگ میں اٹلی میں جا کر پوپ کو مسیح کی آمد ثانی کی اطلاع دی۔اسی طرح اس عاجز کو بھی تبلیغ کی توفیق ملتی رہی۔چنانچہ ۱۹۴۴ء میں پانچ اور ۱۹۴۷ء میں سات کس کو بیک وقت بیعت کروائی۔والد صاحب فرماتے تھے کہ جب تک میں تمام دنیا کے لوگوں کے لیے دعا نہیں کر لیتا میں رات کو نہیں سوتا۔عاجز اس بات کا شاہد ہے کہ خواہ بیمار ہوں یا کتنی ہی سردی کیوں نہ ہو اس ضعیف العمری میں بھی ہر وقت باوضور ہتے تھے۔اکثر ٹھنڈا پانی استعمال کرتے تھے پاکی کا بڑا خیال رکھتے تھے جب بھی میں رات کو باہر سے آتا یا سوئے ہوئے میری آنکھ ھلتی خواہ گرمی ہو یا سردی۔نوافل، تہجد یا قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی کلام بڑے ترنم سے پڑھتے تھے۔وفات سے تین دن قبل بھی یہ شعر بڑے ترنم سے پڑھ رہے تھے۔امروز قومِ من، نشناسد مقام من روزے بگریه یاد کند وقت خوشترم تقسیم ملک کے بعد والد صاحب قادیان سے آکر نمک میانی ( نز د بھیرہ ضلع سرگودھا) میں آباد ہوئے۔عاجز کے بار بار لکھنے پر کہ اب آپ اپنی باقی زندگی مرکز ربوہ میں بسر کریں ۱۹۶۱ء سے میانی کو خیر آباد کہہ کر ربوہ تشریف لے آئے۔پھر باوجود وہاں کے لوگوں کے پیغامات، خطوط اور خود آ کر والد صاحب سے واپس میانی چلنے کی درخواست کرنے کے آپ یہی جواب دیتے اب میں ربوہ میں ہی رہنے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔یہاں پر ہی انجام بخیر ہو تو بہتر ہے۔۲۶، ۲۸،۲۷ مارچ ۱۹۶۵ء کو تینوں دن بڑے شوق سے باوجو د ضعیف العمری کے قصر خلافت سے چل کر تعلیم الاسلام کالج کے ہال میں جا کر مجلس مشاورت میں شمولیت فرماتے رہے۔سلسلہ کی تقریبات میں شمولیت کا خاص شوق تھا۔اکثر فرماتے میں نے آج تک ایک بھی جلسہ سالانہ نہیں چھوڑا۔مشاورت