تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 389
تاریخ احمدیت۔جلد 23 389 سال 1965ء خاموش ہیں۔آپ کی چھوٹی ہمشیرہ سے تین لڑکے اور ایک لڑکی موجود ہیں۔والد صاحب فرماتے کہ میں بیعت کے بعد کپورتھلہ واپس آ گیا۔ایک دن مہاراجہ صاحب اپنے باورچی خانہ کے قریب سے گزر رہے تھے۔حقہ پڑا دیکھ کر ناراض ہوئے۔باورچی نے اپنی جان بچانے کے لیے میرا نام لگا دیا۔میں اس وقت مہاراجہ کے باورچی خانہ کے حساب کتاب پر ملازم تھا۔مہاراجہ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو۔عبدالرحیم قادیان والے مرزا صاحب کے مرید ہیں اور احمدی حقہ نہیں پیتے۔اس لیے یہ عبدالرحیم کا حقہ نہیں ہو سکتا۔والد صاحب نے کبھی احمدیت کو نہیں چھپایا۔اپنے خاندان پر حجت قائم کر دی۔بڑے سے بڑے افسر کو بھی تبلیغ کرتے ہوئے نہیں جھجکتے تھے۔عاجز جب ۱۹۳۶ء میں بند را بن گیا تو وہاں کی مسجد کے امام صاحب کو تبلیغ شروع کر دی وہ میری باتیں بڑے غور اور دلچپسی سے سنتے رہے۔میں جب بات ختم کر چکا تو انہوں نے مجھے بتایا میں تو پہلے ہی احمدی ہوں۔آپ ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دہلوی سے معلوم کر لیں۔میں نے آکر والد صاحب سے ذکر کیا تو والد صاحب نے بتایا وہ تو میرے ذریعے بیعت کر چکے ہیں۔دہلی اور بندرا بن میں ہندوؤں کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ہندوؤں کو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔بلکہ لٹریچر مہیا کر کے ان میں تقسیم کرتے تھے۔ہندو آپ کے بہت معتقد تھے بڑے بڑے پنڈت والد صاحب کو بند را بن کے ان مندروں میں بلا لیتے تھے جن کے باہر بورڈ آویزاں تھے کہ یہاں مسلمان داخل نہیں ہو سکتا۔ان کی وجہ سے باقی ہندو بھی آپ کا بڑا احترام کرتے تھے۔والد صاحب فرماتے تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسجد احمد یہ لنڈن کے لیے تحریک فرمائی اس پر تمہاری والدہ نے اپنا سارا زیور اتار کر حضور کی خدمت میں اسی وقت پیش کر دیا۔جب جلسہ سے تمہاری والدہ گھر آئیں تو مجھے سے پوچھنے لگیں کہ یہ میر از یور کس کا ہے؟ میں نے کہا تمہارا۔اس پر کہنے لگیں۔اگر یہ میں کسی کو دے دوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہ ہوگا۔میں نے جواب دیا نہیں۔اس پر فرمانے لگیں میں نے چندہ مسجد لندن میں حضور کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔والد صاحب فرماتے ہیں مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔۱۹۳۰ء میں والد صاحب نے ہم تین بھائیوں مکرم عبدالرحمن صاحب، مکرم عبد المنان صاحب و مکرم عبدالقادر صاحب کو قادیان مدرسہ احمدیہ میں اس غرض سے داخل کیا کہ یہ مولوی فاضل پاس کر