تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 388
تاریخ احمدیت۔جلد 23 388 سال 1965ء 37 میں قادیان کی طرف جارہا ہوں راستہ میں آموں وغیرہ کے باغات ہیں اور میں خوشی سے قدم بڑھاتے چلا جارہا ہوں اور دل میں کہتا ہوں کہ ان باغات کے پیچھے قادیان ہے۔بعد میں آنکھ کھل گئی۔اس خواب کو دیکھ کر میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ موجودہ مسلمان ویسے تو حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بے حد شیدائی نظر آتے ہیں لیکن دراصل یہ حضور کی پیشگوئی کی بناء پر جو شخص آنے والا تھا وہ یہی حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔لہذا میں نے فوراً حضور کو بیعت کا ایک خط روانہ کر دیا اور جب خود بعد میں قادیان پہنچا تو خواب کے آخری حصہ والا نظارہ ہو بہو جا کر دیکھ لیا۔جناب صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی رقمطراز ہیں: ”میرے والد بزرگوار ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دہلوی فرمایا کرتے تھے کہ میں دہلی سے ریاست کپورتھلہ میں اپنے نانا جان کے پاس تعلیم کی غرض سے آکر رندھیرا کالج میں داخل ہو گیا۔مجھے قرآن پاک پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔میرے بزرگوں نے حضرت مولوی عبدالقادر صاحب کے پاس جو کہ محترم حکیم محمد عمر صاحب مرحوم کے والد تھے پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔حضرت مولوی صاحب کی تبلیغ کے زیراثر میں مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔انہوں نے فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اپنے نام پر بیعت لینے کی اجازت دی ہوئی ہے اور ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت بھی کر لی۔جنوری ۱۹۰۱ ء کے پہلے ہفتہ میں قادیان آکر حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بھی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔بعد میں آپ کے والد صاحب نے بھی تحریری بیعت کر لی۔آپ کی والدہ محترمہ نے ۳۷۔۱۹۳۶ء میں قادیان آکر ایک سال رہائش رکھنے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔میرے بڑے بھائی عبدالرحمن صاحب دادی اماں کو بیعت کے لیے تحریک کرتے رہتے تھے۔آخر کار دادی اماں نے فرمایا۔اگر تمہارے حضرت صاحب سچے ہیں تو دعا کریں۔میرالڑ کا عبداللطیف جو کئی سال سے لا پتہ ہے وہ مجھے یہاں آکر ( قادیان ) مل جائے۔اس صورت میں میں احمدیت کو سچا مان لوں گی۔خدا کا کرنا ایسا ہوا ادھر حضور کو خط لکھا اور ادھر کچھ دنوں بعد چچا جان قادیان آگئے۔ان کے واپس جانے کے بعد دادی اماں مرحومہ نے بیعت کر لی اور کچھ دن بعد وفات پاگئیں۔والد صاحب کے دو چھوٹے بھائی ابھی حیات ہیں ایک نے بیعت کر لی تھی مگر اب مدت سے