تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 384 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 384

تاریخ احمدیت۔جلد 23 384 سال 1965ء خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول فوت ہو گئے ہیں اور حضرت میاں محمود احمد صاحب ان کی جگہ خلیفہ ہوئے ہیں۔آپ کو حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب پشاوری اور مولانا محمد علی صاحب سے بہت حُسنِ عقیدت تھی۔ان دونوں صاحبوں نے چونکہ خلافت ثانیہ کی بیعت نہیں کی تھی اس لیے آپ نے بھی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے فرمایا کہ آپ نے تو خواب میں بھی دیکھا تھا کہ حضرت میاں صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں۔آپ نے یہ جواب دیا کہ میرا خواب تو بالکل سچا تھا جس کے مطابق حضرت میاں صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں مگر اس میں یہ تو نہیں بتایا گیا تھا کہ حضرت میاں صاحب کے عقائد بھی صحیح ہیں یا میں نے بیعت بھی کر لی ہے۔آپ کی بی بی نے بیعت کر لی اور گو آپ اپنے موقف پر قائم رہے لیکن ان کو آپ نے منع بھی نہیں کیا۔احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے قواعد اساسی آپ نے تجویز کیے۔یکم اکتوبر ۱۹۱۴ء سے یکم نومبر ۱۹۴۳ء یعنی ۲۹ سال تک اس انجمن کے ماتحت کام کیا۔ابتدا میں آپ اکیلے ہی انجمن کا سارا کام کرتے تھے۔مینجر اخبار پیغام صلح، مینیجر مطبع، پریس کیپر، سیکرٹری، محاسب، خزانچی، آڈیٹر، مہتم تصنیفات بمحرروں کو بھی کام سکھایا۔عرصہ تک آپ احمد یہ بلڈنکس کے امام الصلوۃ رہے۔جہاں مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے۔آپ کو خدا نے لحن داؤدی عطا فرمایا تھا۔آپ قرآن شریف کی تلاوت نہایت دلکش انداز میں فرماتے۔ازل سے حضرت ماسٹر صاحب چونکہ نیک فطرت لے کر آئے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ ثانی کے دعوی مصلح موعود کے ابتدائی ایام میں ہی آپ پر نظام خلافت کی حقانیت منکشف فرما دی اور آپ نے ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء کو فریق لاہور کے ایک اور بہت بڑے ذمہ دار رکن خان بہادر میاں محمد صادق صاحب کے ساتھ حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔یہ بیعت نماز جمعہ کے بعد مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔حضرت مصلح موعود نے بیعت کے بعد آپ کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ مجھے آپ کی بیعت سے بہت خوشی ہوئی کیونکہ آپ میرے استاد ہیں اور میری ہمیشہ خواہش رہتی تھی کہ آپ بیعت کر لیں۔حضرت مصلح موعود نے ۲۸ دسمبر ۱۹۴۴ء کو اپنی معرکہ آراء تقریر کے دوران مصلح موعود کے علوم ظاہری سے پر کیے جانے کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ کا بھی بطور خاص ذکر کیا۔چنانچہ فرمایا: