تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 385
تاریخ احمدیت۔جلد 23 385 سال 1965ء ”میری تعلیم جس رنگ میں ہوئی ہے وہ اپنی ذات میں ظاہر کرتی ہے کہ انسانی ہاتھ میری تعلیم میں نہیں تھا۔میرے اساتذہ میں سے بعض زندہ ہیں اور بعض فوت ہو چکے ہیں۔ماسٹرفقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لیے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے۔لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ جتنی دُور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی اور پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ پڑھتا نہیں کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا۔آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدر سے چلا جاتا ہے۔ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر ہنس کر فرمانے لگے اس سے ہم نے آٹے دال کی دوکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے حساب آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کونسا حساب سیکھا تھا۔اگر یہ مدرسہ چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہیے۔یہ سنکر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسہ میں جانا ہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔غرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی۔اگست ۱۹۴۷ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کے سپر د دفتر وکیل المال تحریک جدید میں مشنہائے بیرونِ ہند کا بجٹ تیار کرنے کا کام فرمایا اور آپ ۳۱ جنوری ۱۹۴۹ء تک تحریک جدید میں مفوضہ 32