تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 382
تاریخ احمدیت۔جلد 23 382 سال 1965ء ہوا اور وہ اپنے گھر جا کر بھی حضرت اماں جان کے محبت بھرے کلمات کا ذکر کرتی رہی۔بار بار یہ کہتی کہ حضرت اماں جان تو سگی ماں سے بھی زیادہ اچھا سلوک کرتی ہیں۔آپ کی اس محبت اور شفقت نے اس کی طبیعت کو بدل دیا اور اسی کے نتیجہ میں اس نے بالآخر احمدیت بھی قبول کر لی۔“ وفات عام طور پر آپ کی صحت ہمیشہ اللہ کے فضل سے اچھی رہی لیکن آخری ایام میں بندش پیشاب کے مرض نے ایسا غلبہ پایا کہ آپ لمبا عرصہ صاحب فراش رہے۔۱۹۶۵ء میں جب آپ قادیان سے بیوی بچوں کو ملنے پاکستان آئے تو بیماری اور زیادہ شدت اختیار کر گئی۔چنانچہ آپ کو میوہسپتال لاہور میں داخل کرایا گیا جہاں وے سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہو گیا۔حاجی صاحب اللہ کے فضل سے موصی تھے اس لیے آپ کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں دفن کیا گیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین اولا دز وجه اولی حسین بی بی صاحبہ مرحومه غلام فاطمہ صاحبہ، ڈاکٹر محمد احمد صاحب عدنی ( مکرم اکبر احمد عدنی صاحب حال ناظم جائیداد صدر انجمن احمد یہ ان کے پوتے ہیں)، امتہ اللہ صاحبہ محمد عبد اللہ صاحب، امۃ اللہ صاحبہ عرف عنایت، میجر سلطان احمد صاحب اولا در وجہ ثانی عائشہ بی بی صاحبہ بشیر احمد صاحب، سکینہ عثمان صاحبہ، سلیمہ بیگم صاحبہ ، مبارک احمد اعجاز صاحب، سلیمہ مبارک صاحبہ، صفیہ بیگم صاحبہ، نعیم احمد وسیم صاحب، لطیف احمد عارف صاحب، حلیمہ لطیف صاحبه، رفیق احمد طارق صاحب، رشید احمد راشد صاحب، آمنه طیبه صاحبه، وسیم احمد صاحب، بشری صادقہ صاحبہ حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب سابق افسرامانت تحریک جدید 29 ولادت : ۲۴ جون ۱۸۷۶ء بیعت: ۱۸۹۶ ء وفات : ۹ را گست ۱۹۶۵ء آپ پشاور میں پیدا ہوئے قرآن شریف ختم کرنے کے بعد ابتدائی تعلیم مشن سکول میں حاصل کی۔عنفوانِ شباب میں آپ کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا اور چورا شریف ضلع اٹک میں میاں نور محمد صاحب کی بیعت کر کے نقشبندی سلسلہ میں داخل ہو گئے۔۱۸۹۶ء میں حضرت مولانا غلام حسن خان