تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 378
تاریخ احمدیت۔جلد 23 378 سال 1965ء حضرت حاجی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ایک مقدمہ کے سلسلہ میں حضور علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں جہلم میں تشریف لائے۔تو پہلی مرتبہ میں نے آپ کی زیارت کی۔جبکہ عدالت سے باہر احاطہ کچہری میں جہاں کثرت سے لوگ جمع تھے۔آپ حلقہ خدام کے اندر کرسی پر بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید آپ کے کلمات سن کر زار زار رور ہے تھے۔وہ نظارہ عجیب پر کیف تھا۔اب بھی جب یاد آتا ہے تو رقت طاری ہو جاتی ہے۔زبان اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے۔دل چاہتا تھا کہ جان و مال سب حضور پر شمار کر دوں۔اس زمانہ کے احمدیوں کی مخالفت کا سماں بھی مدنظر تھا۔مگر حضور کی تقریر اور اس نظارہ سے میں ایسا متاثر ہوا کہ بیعت کیے بغیر لوٹنا محال ہو گیا۔بیعت کر لینے پر بعض شریروں نے رستہ میں ہی قتل کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔مگر خدا کے فضل اور آپ کی دعاؤں کے طفیل سخت سے سخت مخالفتوں میں بھی کبھی پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی بلکہ اخلاص میں ترقی ہوئی۔شرف بیعت حاصل کرنے کے بعد آپ نے سیالکوٹ میں بھی خدا کے مقدس مہدی کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔اس ایمان افروز واقعہ کا ذکر آپ کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے۔ایک مرتبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خاکسار کو علم ہوا کہ کسی تقریب پر سیالکوٹ تشریف لا رہے ہیں۔تاریخ مقررہ پر میں بھی بشوق زیارت وہاں پہنچا۔حضور ایک مکان کی اوپر کی منزل پر تشریف فرما تھے اور حاضرین ایک ہجوم کی صورت میں نیچے منتظر دیدار کھڑے تھے کہ اتنے میں حضرت نیچے تشریف لے آئے اور شرفِ زیارت سے حاضرین کو بہرہ اندوز فرمایا۔ایک بڑھا جب حضور سے ملا تو دھاڑیں مار کے رونے لگا۔حضور نے اسے تسلی دیتے ہوئے حالات دریافت فرمائے اس نے عرض کی۔حضور میں حضرت امام مہدی کی آمد تک زندہ رہنے کی دعا کیا کرتا تھا۔حضرت نے فرمایا بابا پھر تو آپ کی دعا کو خدا نے قبول فرمایا۔اس پر وہ بہت خوش ہوا اور اپنا ایک پوتا حضرت کو پیش کر کے عرض کی کہ اس پر اپنا ہا تھ مبارک پھیریں اور اس کے حق میں دعا فرماویں۔حضور نے دعا فرمائی اور اوپر تشریف لے گئے۔جاتے وقت اتفاق سے آپ کا ایک جوتا جو بالکل سادہ تھا پاؤں سے اتر کر نیچے آ رہا جسے خاکسار نے اٹھا کر اپنے ہاتھ سے آپ کے پاؤں میں پہنا دیا۔جس پر حضور نے متبسم صورت میں محبت بھرے الفاظ میں فرمایا۔جزاک اللہ۔25