تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 376 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 376

تاریخ احمدیت۔جلد 23 376 سال 1965ء جلسہ کے اختتام پر ہم پانچ ڈاکٹر کلاس کے طالب علموں نے حضور سے واپسی کے لیے اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رسالہ الوصیت چھپ رہا ہے اس کو لے کر جاویں۔چنانچہ ہم ٹھہر گئے اس کے دوسرے یا تیسرے روز رسالہ الوصیت چھپ کر آ گیا۔ابھی گیلا ہی تھا کہ ہم کو اس کی ایک ایک کاپی عنایت کر دی گئی اور ساتھ ہی حضور نے ہم کو واپسی کی اجازت بھی دے دی۔چنانچہ ہم رسالہ الوصیت لے کر واپس لاہور آگئے۔لاہور میڈیکل کالج کے ہاسپیٹل اسٹنٹ کلاس نے (جن میں میں بھی شامل تھا ) ۱۹۰۶ء کے آغاز میں بعض مشکلات کی بناء پر سٹرائیک کر دی تھی اس میں احمدی میڈیکل طلباء بھی شامل تھے۔حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے ازراہِ کرم ایک تاکیدی حکم ہم کو بھیجا کہ ایسی تحریکات میں حصہ لینا اسلام کے خلاف ہے اور جماعت احمدیہ کی بھی روایات کے خلاف ہے۔اس لیے تم سب پرنسپل صاحب سے معافی حاصل کر کے کالج میں پھر داخل ہو جاؤ۔ساتھ ہی پرنسپل صاحب میڈیکل کالج کو بھی لکھا اور ساتھ ہی سفارش بھی کی کہ ہماری جماعت کے طلباء کو معافی دے کر پھر داخل کر لیویں۔چنانچہ ہم پانچوں احمدی طلباء معافی لے کر پھر داخل ہو گئے اس پر پیسہ اخبار لاہور نے مسیح کے پانچ حواری“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدی جماعت پر بہت اعتراض کئے اس کے بعد باقی سارے لڑکے بھی معافی مانگ کر داخل ہو گئے۔حضور کے بہت سے خطوط بھی میرے پاس تھے مگر افسوس ہے کہ میں بوجہ جنگ عظیم پر جانے کے محفوظ نہ رکھ سکا۔بہت نیک مخلص اور عبادت گزار بزرگ تھے عرصہ دراز تک علی الترتیب فوج، پولیس اور محکمہ جیل خانہ جات میں ملازم رہے۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور محلہ دار البرکات میں صدر کی حیثیت سے انتظامی ذمہ داریاں بجالاتے رہے علاوہ ازیں کئی سال تک نور ہسپتال میں آنریری طور پر طبی خدمات انجام دیں۔خدمت خلق کا جذ بہ آپ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔خود اپنے گھر اور دوسروں کے گھروں پر جاجا کر بھی مریضوں کو دیکھتے اور نہایت بشاشت کے ساتھ بلا معاوضہ ان کا علاج کرنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتے تھے۔20 آپ نے تین شادیاں کیں۔وفات کے وقت آپ نے پانچ لڑکیاں اور چار لڑکے چھوڑے۔پہلی شادی مسماة آمنہ بی بی صاحبہ بنت سر بلند خان صاحب ساکن ریاست جموں ، دوسری مسماۃ فاطمہ بی بی بنت حاجی محمد اسماعیل صاحب اور تیسری شادی مسماۃ امتہ ائی بیگم بنت میاں محمد یوسف صاحب (مردان) سے کی۔