تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 371 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 371

تاریخ احمدیت۔جلد 23 371 سال 1965ء پھر ہجرت کے بعد سندھ میں قیمتی زمین حاصل کی۔اور اسے آبا دکر کے سب سلسلہ کے مفاد میں پیش کر دی۔آپ ہر چند تین بیویاں حبالہ نکاح میں لائے مگر پھر بھی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ربوہ میں رہائش تھی اور حضور پر نور کی جانب سے ہر قسم کی ضرورت کے لیے آسائش مہیا کر دی گئی تھی۔آپ تبلیغ احمدیت میں بہت حصہ لیتے رہے۔حیدر آباد دکن میں اپنی ایک فتنی ایجاد (پارہ کا گلاس) کے ذریعہ کئی ایسے رؤسا کے پاس پہنچے جہاں باریابی حاصل کرنے کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا تھا اور جہاں ان سے مالی معاوضہ حاصل کرتے وہاں کھل کر احمدیت کا پیغام بھی پہنچاتے جو اصل مقصود تھا۔حضرت مستری غلام قادر صاحب ولادت : ۱۸۸۵ء بیعت : ۱۹۰۶ء وفات : اافروری ۱۹۶۵ء آپ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔سالہا سال تک مسجد احمد یہ سیالکوٹ میں بطور خادم خدمات بجا لاتے رہے۔آپ نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔۱۹۴۷ء کے فسادات میں آپ کے ایک فرزند مکرم غلام محمد صاحب نے قادیان میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔جس کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد ا ا صفحہ ۱۸۸ تا ۹۰ اوپر موجود ہے۔حضرت مستری صاحب نے یہ صدمہ بڑے حوصلہ اور صبر سے برداشت کیا۔۱۲ فروری ۱۹۶۵ء کو آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔نماز جمعہ کے بعد محترم مولانا جلال الدین شمس صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت فرمائی۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد : غلام محمد صاحب عبد العزیز صاحب، رشیدہ بیگم صاحبہ، امتہ القدیر صاحبہ، زینب بی بی صاحبہ، امتہ القیوم صاحبہ حضرت مریم بیگم صاحبہ ولادت : ۱۸۹۰ء بیعت : ۱۹۰۱ء وفات: ۱۱فروری ۱۹۶۵ء آپ مکرم حاجی محمد اسماعیل صاحب (ریٹائر ڈاسٹیشن ماسٹر لاہور ) کی اہلیہ اور حضرت میاں محمد یوسف صاحب آف مردان کی صاحبزادی تھیں۔۱۲ فروری ۱۹۶۵ء کومحترم مولانا جلال الدین شمس صاحب نے بعد نماز جمعہ آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔بعد ازاں بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد: فضل حق غازی فضل الرحمن غازی مرحوم، سکینہ بیگم، طاہرہ بیگم ، ناصرہ بیگم نصیرہ بیگم !