تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 353 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 353

تاریخ احمدیت۔جلد 23 353 سال 1965ء کو یاد کر کے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور احباب اپنے جذبات پر قابو پانے اور قلوب مضطر کو سنبھالنے کی کوشش میں دبی دبی آوازوں میں سسکیاں بھر رہے تھے اور دل ہی دل میں حضور کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔اس کے بعد ثاقب صاحب خلافت ثالثہ کے قیام کی طرف آئے اور آپ نے یکے بعد دیگرے حسب ذیل اشعار پڑھے شکر ایزد تری آغوش کا پالا آیا اپنے دامن میں لئے دولت عرفاں پیارے دیکھ کر اس کو لگی دل کی بجھا لیتا ہوں جس کی ہر ایک ادا نافله لک کی جس کی ہر ایک نوا درد کا عنواں پیارے 199 آنے والے پہ نہ کیوں جان ہو قرباں پیارے اس پر غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے ہزاروں ہزار احباب کے چہروں پر یکدم امید اور مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ خدائے حی و قیوم اور رحمن ورحیم کے احسانوں کو یاد کر کے جھوم اٹھے ایک ایک شعر پر مرحبا اور جزاک اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔احباب پر ایسا وارفتگی کا عالم طاری ہوا کہ ساری فضا دیکھتے ہی دیکھتے حضرت خلیفہ اسیح الثالث زندہ باد، اسلام زندہ باد، احمد بیت زندہ باد کے پر جوش نعروں سے گونج اٹھی اُس وقت چند لمحوں کے اندراندرا حباب پر غم اور خوشی کے باہمی امتزاج کی ایک ایسی نا قابل بیان کیفیت وارد ہوئی جسکی یاد کبھی فراموش نہیں ہو سکتی۔علم انعامی کا اعزاز ۱۹۶۵ء میں علم انعامی حاصل کرنے کا اعزاز گذشتہ سال کی طرح مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کو حاصل ہوا۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۰ دسمبر کے اجلاس دوم کے آغاز میں چوہدری عبدالعزیز صاحب ڈوگر مہتم مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کو اپنے دست مبارک سے عطا فرمایا۔اور بارک اللہ لکم کی دعا سے بھی نوازا۔اطفال کا علم انعامی ہر سال خدام الاحمدیہ کے مرکزی اجتماع کے موقع پر دیا جاتا تھا۔مگر اس سال ہنگامی حالات کی وجہ سے اجتماع منعقد نہ ہوسکا۔اس لئے حضور -