تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 340
تاریخ احمدیت۔جلد 23 340 سال 1965ء نے یہی کہا کہ اس سے بہتر نہیں لکھا جا سکتا۔سیاست میں جب بھی آپ نے قیادت سنبھالی یا جب بھی آپ نے سیاست کے بارہ میں قائدانہ مشورے دیئے بڑے سے بڑا مخالف بھی آپ کی بے مثال قابلیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔غرض حضور کے علوم ظاہری و باطنی سے پُر ہونے کے متعلق ایک بڑی تفصیل ہے جس کے ہزارویں حصہ میں بھی میں نہیں جاسکتا۔صرف ایک سرسری سی چیز آپ کے سامنے رکھ کر اس حصہ کو ختم کرتا ہوں۔پھر دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ اقوام عالم پر ظاہر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ علوم و معارف جو اللہ تعالیٰ کی موہبت سے آپ کو عطا ہوئے ان کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا جائے اگر خالی اردو میں ہی وہ علوم لکھے جاتے تو آپ کا دعویٰ بے معنی بن کر رہ جاتا کیونکہ غیرممالک اور غیر اقوام اس سے فائدہ حاصل نہ کر سکتیں۔پس اگر اس مصلح موعود کے ذریعہ سے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ تمام اقوام عالم پر ظاہر ہونا تھا۔تو اس کے ذریعہ ظاہر ہونے والے علوم و معارف کا ترجمہ تمام دنیا کی زبانوں یا دنیا کی ان زبانوں میں ہونا ضروری تھا جو دنیا کے اکثر حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔مجھے ابھی خیال آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو تدبیر کی کہ دنیا کے بہت سے ممالک صرف دو تین قوموں کے سیاسی اقتدار کے نیچے آگئے۔اس میں دنیا کے لئے ایک بڑا روحانی فائدہ مضمر تھا اور وہ فائدہ یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ مسیح محمدی کو بھیجے تو اشاعت اسلام کا کام آسان ہو جائے ورنہ مسیح محمدی کے زمانہ میں اس وقت تک آپ کا پیغام تمام دنیا میں نہیں پہنچ سکتا تھا جب تک دنیا کی ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ نہ کیا جاتا۔چونکہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت دنیا کی اقوام میں سے کچھ قومیں انگریزوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں کچھ فرانسیسیوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں اور کچھ جرمنوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں۔اس لیے ہم اسلام کا پیغام ان تین زبانوں کے ذریعہ اقوام عالم کی خاصی بڑی تعداد تک پہنچا سکتے ہیں۔اگر روسی اور چینی بھی شامل کر لئے جائیں تو میرا خیال ہے کہ ۹۰،۸۰ فیصدی آبادی کو ہمارا پیغام پہنچ جاتا ہے ورنہ ہمارے لئے بہت زیادہ جد و جہد اور کوشش اور قربانیوں اور مال خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔اللہ