تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 336 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 336

تاریخ احمدیت۔جلد 23 336 پھر مارچ ۱۹۴۴ء میں آپ نے دنیا کوللکارا اور چینج کیا کہ: سال 1965ء اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ مجھے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا ہے اور میرے اندر اس نے ایسا ملکہ پیدا کر دیا ہے کہ جس طرح کسی کو خزانہ کی کنجی مل جاتی ہے اسی طرح مجھے قرآن کریم کے علوم کی نجی مل چکی ہے۔دنیا کا کوئی عالم نہیں جو میرے سامنے آئے اور میں قرآن کریم کی افضلیت اس پر ظاہر نہ کرسکوں۔یہ لاہور شہر ہے یہاں یو نیورسٹی موجود ہے۔کئی کالج یہاں کھلے ہوئے ہیں۔بڑے بڑے علوم کے ماہر اس جگہ پائے جاتے ہیں میں ان سب سے کہتا ہوں دنیا کے کسی علم کا ماہر میرے سامنے آجائے۔دنیا کا کوئی پروفیسر میرے سامنے آجائے ، دنیا کا کوئی سائنس دان میرے سامنے آجائے اور وہ اپنے علوم کے ذریعہ قرآن کریم پر حملہ کر کے دیکھ لے۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ایسا جواب دے سکتا ہوں کہ دنیا تسلیم کرے گی کہ اس کے اعتراض کا رد ہو گیا۔اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں خدا کے کلام سے ہی اس کو جواب دونگا اور قرآن کریم کی آیات کے ذریعہ سے ہی اس کے اعتراضات کو رد کر کے دکھا دونگا۔پھر فرمایا: ایسا انسان جس کی صحت کبھی ایک دن بھی اچھی نہیں ہوئی۔اس انسان کو خدا نے زندہ رکھا اور اس لیے زندہ رکھا کہ اس کے ذریعہ اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے مہیا کرے۔پھر میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا۔مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لیے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے۔وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا اور وہ چشمہ روحانی جو میرے سینہ میں پھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے کہ جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ