تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 333
تاریخ احمدیت۔جلد 23 333 سال 1965ء ایمان افروز تقریر میں حضرت مصلح موعود کے عظیم الشان کارناموں کا تذکرہ اس درجہ شرح وبسط سے فرمایا کہ گویا دن ہی چڑھا دیا۔اس یاد گار تقریر کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔اس پیشگوئی میں جو دوسری بات ہمیں مصلح موعود کے متعلق بتائی گئی ہے یہ ہے کہ: وہ علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“ اور یہ اس لیے کہ ” تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں“ ہم میں سے ہزاروں لاکھوں نے خود مشاہدہ کیا کہ قرآن کریم کی کچی متابعت اور اس مطہر صحیفہ سے کامل محبت اور اخلاص کے فیض سے اس پاک وجود مصلح موعود کی نظر اور فکر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تمام فیوض کا سر چشمہ ہے ایک نورعطا ہوا جس سے علم الہی کے عجیب وغریب لطائف اور نکات جو کلام الہی اور کتاب مکنون میں پوشیدہ تھے اس پر کھلنے لگے اور دقیق معارف ابر ئیساں کے رنگ میں اس پر برسنے لگے اور خدائے وہاب نے اپنی رحمانیت سے اس کے فکر اور نظر کو ایک ایسی برکت عطا کی کہ اس کے آئینہ فکر ونظر پر کامل صداقتیں منکشف ہونے لگیں ، سو جو جو علوم ومعارف اور دقائق و حقائق اور لطائف و نکات اور ادلّہ وبراہین اسے سو جھے اور جنہیں اس نے تفسیر کبیر اور اپنی دوسری کتب میں بیان کیا وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے کامل مرتبہ پر واقع ہیں کہ جو یقیناً خارق عادت ہے اور جس کا مقابلہ کسی دوسرے کے لیے ممکن نہیں کیونکہ تفسیر کا خارق عادت معجزہ اس کی کسی ذاتی خوبی کی وجہ سے نہیں تھا۔بلکہ اسے غیبی تفہیم اور خدائے صدر اور قدوس کی تائید سے اس نے لکھا تھا اور یہی خوارق اس کا عالی منزلت اور حسن و احسان میں مسیح محمدی کا تمثیل ہونا ثابت کرتے ہیں اور خدائی بشارات والہی تفہیم کے مطابق دین و دنیا کے علوم و نکات کے بیان میں وہ اپنے ہم عصروں سے اس قدر سبقت لے گیا کہ اس کی تقریروں کو سن کر اور اس کی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے اور پرائے اس اعتراف پر مجبور ہوئے کہ اس کے بیان کردہ علوم و معارف ایک دوسرے ہی عالم سے ہیں جن کا دنیوی تعلیم و تدریس