تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 327
تاریخ احمدیت۔جلد 23 327 سال 1965ء ایمانوں کو ایک نئی تازگی اور قلوب واذہان کو ایک نئی جلا بخشی۔روحوں کو نئی بالیدگی سے ہمکنار کیا۔اور ہر دل زبانِ حال سے پکار اٹھا کہ فی الواقعہ خدا ہی خلیفہ بناتا ہے۔اور پھر جسے خلافت کے منصب جلیلہ پر فائز فرماتا ہے۔اس کو علوم و معارف کے بے شمار خزانے بھی عطا کر دیتا ہے۔اس کی زبان اور بیان کو غیر معمولی اعجاز سے نوازتا ہے۔وہی اسے جذب وکشش اور قوت قدسی سے مالا مال کرتا ہے۔وہی مومنین کے قلوب پر تصرف کر کے اسے اس کی بے پناہ محبت و عقیدت اور جانثاری اور فدا کاری کا مستحق ثابت کر دکھاتا ہے۔اور پھر اس کے لئے آسمانی نصرتوں اور تائیدوں کے لاتعداد دروازے کھول دیتا ہے۔یہی آسمانی نشان ۱۹۶۵ء کے اس تاریخی جلسہ کے موقع پر چشم فلک نے دیکھا۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی اس مبارک تقریب پر افتتاحی خطاب کے علاوہ بھی درج ذیل تین نہایت ہی ایمان افروز اور روح پرور تقاریر ہوئیں۔۔احمدی خواتین سے پر معارف خطاب (۲۰ دسمبر۔اجلاس اوّل) اہم جماعتی اور قومی امور پر بصیرت افروز تقریر ( ۲۰ دسمبر۔اجلاس دوم )۔حضرت مصلح موعود کے عظیم الشان کارناموں کا ایمان افروز تذکرہ۔(۲۱ دسمبر ) افتتاحی خطاب حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اے خدائے بزرگ و برتر کی برگزیدہ اور محبوب جماعت : خدا کرے کہ اس کے قرب کی راہیں آپ پر ہمیشہ کھلی رہیں۔۔اے نور محمدی کے پروانو! خدا کرے کہ دنیا کی کوئی شمع کبھی تمہیں اپنی طرف مائل نہ کر سکے۔۔اے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت گزار جماعت اور آپ کے جاشارو! خدا آپ کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالے اور آپ ہمیشہ ان بشارتوں کے وارث بنے رہیں جو آسمان سے آپ کے لئے نازل کی گئی ہیں۔اے مسیح موعود کے فیوض اور قوت قدسی سے تربیت یافتہ جماعت ! خدا کرے مصل