تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 317
تاریخ احمدیت۔جلد 23 317 سال 1965ء باتوں دینی علوم اور تحقیق کا شوق تھا۔میز پر ایک طرف قرآن کریم ہے۔اپنی دینی کتب و احادیث رکھی ہیں تو دوسری جانب انجیل بھی رکھی ہے اور دیگر مذاہب کے کتب ورسائل بھی۔آنکھیں اکثر آشوب کر آتی تھیں مگر پڑھتے رہتے تھے۔عجیب شخصیت تھی کہ ساتھ ہی دل بہلانے کے سامان بھی مہیا رہتے۔کشتی چلانا۔نشانہ اندازی وغیرہ علیل سے بہت ایک زمانہ میں شغف رہا جس سے نشانے باندھ کر مشق کیا کرتے پر مذاق باتیں کرتے تو دل سنکر باغ باغ ہو جاتا۔مگر یہ سب ایک وقتی تفریح اور ذرا آرام لینے کی خاطر ہوتا تھا۔ہرگز کبھی انہوں نے کسی اصل کام میں حرج نہیں آنے دیا۔اس عمر میں بھی نہ وہ کبھی خشک مزاج ہوئے نہ سرد مہر۔بہت با محبت بہت پیار کرنے والے رہے گھر کی رونق بھی تھے اور روشنی بھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ کے لئے روشن نشان بنانا مقدر فر مایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میری ہوش کے زمانہ میں آپ بہت مؤدب رہتے تھے اور بچپن کی بے تکلفی کو ختم کر چکے تھے۔آپ کا مقام خوب پہچان چکے تھے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا برتاؤ ان کے ساتھ اپنی یاد کے زمانہ سے میں نے ایسا ہی دیکھا جیسا بڑے جوان بیٹوں سے ہوتا ہے۔باہر بھیجنایا کوئی کام سمجھانا غرض کچھ کہنا ہو تو ان سے بات کا طریق آپ کا ایسا تھا کہ اب اس عمر کے چودہ پندرہ سال کے لڑکوں سے نہ والدین کرتے ہیں نہ لڑکوں میں اتنی ذمہ داری کا احساس اور فراست نظر آتی ہے مگر وہ زمانہ اور تھا مسیح موعود علیہ السلام کے نور کا اثر تھا اور خدا تعالیٰ کی مشیت اپنی نصرت سے ان کو جس مقام پر کھڑا کرنا تھا اس کے لئے تیار کرنے میں خود مد تھی آپ لوگوں کے لئے عمر پندرہ سال خدام میں شمولیت کی جو وہ مقرر فرما گئے انہوں نے اس وقت کی اپنی سمجھ عقل دور اندیشی دینی جوش وغیرہ کا اندازہ لگا کر بہت ٹھیک مقرر فرمائی ہے اور اس کو ایک نیک فال بنایا ہے خدا تعالیٰ آپ کو ہمیشہ راستی پر قائم رکھے اور نیکی میں قدم بڑھتے رہیں۔آپ سب کے ارادے نیک نیتوں کے ساتھ مبارک اور صادق ہوں اور خدا تعالیٰ آپ کا ناصر رہے۔خدام الاحمدیہ خدام احمد اور فدائے دین احمد ہیں۔خلافت سے وابستہ رہیں۔اس غم میں بھی ہم کو جو خوشی خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے بخشی اس کا نیچے دل سے شکر گزار عملاً بھی اور قولاً بھی ہم سب کو ہونا اور رہنا چاہئیے۔کیسا کرم فرمایا کیسا ہاتھ تھام کر بیڑا پار لگایا ہے کہ اس کے احسان کو سوچ کر ایک لرزہ آ جاتا ہے کہ شکریہ بھی تو ادا نہیں کر پاتے ، جو شکریہ کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر فتنہ سے بچالیا