تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 315
تاریخ احمدیت۔جلد 23 315 سال 1965ء و بہبود کے لئے اکثر و بیشتر میں نے آپ کو کرب کی سی کیفیت میں مبتلا دیکھا۔اگر چہ میرا حال قلبی یحزن و العین تدمع کا آئینہ دار ہے لیکن جب میں آپ سب کے دُکھ دیکھتی ہوں تو آپ کا دردوکرب اپنے در دو کرب سے سبقت لے جاتا ہوا نظر آتا ہے۔اُس وقت میرا دل آپ سب کے لئے شدید محبت و رحم کی وجہ سے تڑپنے لگتا ہے۔پھر میں اپنے غم کو چھپانے کی کوشش کرتی ہوں اس لئے کہ ہر آنے والی عزیز بہن اور بھائی کو میں کسی طرح تسکین دے سکوں اور ان کا حوصلہ بندھا سکوں۔اس سے کسے انکار کہ یہ غم اور دکھ اپنے رنگ میں عجیب ہے جو انفرادی بھی ہے اور مجموعی بھی۔میں دل سے چاہتی ہوں کہ ہر عزیز بہن اور بھائی کو ان کی ہمدردی واخلاص کے مظاہرے پر جو اُنہوں نے اپنے تاروں اور خطوط میں کیا ہے خود انفرادی طور پر جواب دوں لیکن فی الحال ایسا کرنا میری طاقت سے باہر ہے، اِس لئے اِس نوٹ کے ذریعہ آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر دے۔آمین جماعت کا ہر فرد مجھے بیحد عزیز ہے اور میرے لئے قابلِ احترام ہے انشاء اللہ ہمیشہ ہی میری دُعاؤں میں مقدم ہوگا۔آپ ہمیشہ انشاء اللہ مجھے اپنے دُکھ سکھ میں اپنا شریک پائیں گے۔وماتوفيقى الا بالله آج میں بھی اس مقدس و معصوم تعلق کی وساطت سے جو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے میرے اور آپ کے درمیان بنارکھا ہے آپ سب کی خدمت میں نہایت دردمند دل کے ساتھ دُعا کی درخواست کرتی ہوں۔آپ میرے لئے دُعا فرما دیں کہ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے صحیح معنوں میں خدمت دین کی توفیق دے۔میں اسکی مخلوق کی حقیقی معنوں میں مونس و غمخوار بنوں۔میرا وجود نافع الناس ہو۔میرا انجام ہر جہت سے بخیر ہو۔اور جب میں اس فانی دنیا سے اُٹھوں تو اللہ تعالیٰ کے حضور اور اس کے رسول اور خلفاء کے سامنے میں اس حال میں پہنچوں کہ میں ہر لحاظ سے سرخرو ہوں۔اللهم ربنا امین اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔محتاج دعائے خاص محزون و دلفگار مہر آیا 66 ۲۸/۱۱/۱۹۶۵