تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 306 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 306

تاریخ احمدیت۔جلد 23 306 سال 1965ء جو یہاں تعلیم پاتے تھے میں نے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھا۔بے شک میں نے جہاں تک مناسب سمجھا سختی بھی کی لیکن اس وقت سختی کی جب میں نے اسے اصلاح کا واحد ذریعہ پایا اور بعد میں مجھے اس دکھ کی وجہ سے راتوں جاگنا پڑا کہ کیوں میرے ایک بچے نے مجھے اس سختی کے لیے مجبور کر دیا حتی کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔کئی راتیں ہیں جو میں نے آپ کی خاطر جاگتے گزار دیں اور ہمیشہ ہی آپ کے لیے دُعائیں کرتا رہا۔اور پھر میں نے اپنے رب کا پیار بھی محسوس کیا کیونکہ وہ اپنے فضل سے میری اکثر دُعائیں قبول کرتا رہا اور کبھی کسی موقع پر بھی میرے دل میں ناکامی و نامرادی یا نا امیدی کا خیال تک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اُن دلوں میں پیدا ہونا چاہیئے جنہوں نے اس کام کو کرنا ہے۔میری ایک ہی خواہش ہے اور ایک ہی تڑپ ہے وہ یہ کہ آپ اپنے دلوں کی کھڑکیاں اپنے رب کی طرف کھولیں اور اسی کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں اور ضرورت اور احتیاج کے وقت اسی کی طرف رجوع کریں ہمارا خدا زندہ خدا ہے اور بڑی طاقتوں والا ہے۔اگر آپ کے دل اس نہج پر نشو ونما پانے لگیں تو پھر ساری دنیا آپ کے قدموں پر آگرے گی۔مگر پھر بھی آپ اس پر کوئی فخر نہ کریں گے کیونکہ جو چیز آپ کو مل چکی ہوگی وہ ساری دنیا اور اس کے تمام مال و اسباب سے زیادہ قیمتی ہوگی۔170 166 جلسہ سالانہ کی ارتقائی تاریخ پر ایک بصیرت افروز خطبہ جمعہ جلسہ سالانہ کے مبارک ایام قریب تر آچکے تھے اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں پہلے تو اس عظیم روحانی اجتماع سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات کا متن پڑھا بعد ازاں جلسہ سالانہ کی ارتقائی تاریخ اور جماعتی ذمہ داریوں پر بصیرت افروز رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔ان مبارک اور دعاؤں بھرے الفاظ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کی ابتداء کی۔اور خدا تعالیٰ کا فعل یہ گواہی دیتا ہے اس نے جو کچھ بتایا تھا وہ اپنے وقت پر پورا ہوا۔اور جب ہم گزشتہ جلسوں کی حاضری پر طائرانہ نظر ڈالتے