تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 304
تاریخ احمدیت۔جلد 23 304 سال 1965ء کہ جو خرچ آپڑا ہے وہ ضروری ہے کہ نہیں۔اور اس خرچ میں کوئی فضول خرچی تو نہیں، ناجائز حصہ تو نہیں۔اگر جائز ضرورت ہوتی تو پھر یقین ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم کرتے ہوئے اس جائز ضرورت کو پورا کرنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔پھر جب سال گزرتا حساب کرتے تو ساری رقوم ایڈجیسٹ ہو جا تیں اور کبھی فکر یا تر ددکرنا نہیں پڑ اور نہ یہ کالج جس میں آپ اس وقت بیٹھے ہیں کبھی نہ بنتا۔جب میں نے اس کالج کا نقشہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حضور پیش کیا تو آپ مُسکرائے اور فرمایا کہ اتنا بڑا کالج بنانے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں۔میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ کالج کے لیے اور پچاس ہزار روپیہ ہوٹل کے لیے دے سکتا ہوں اور یہ نہیں کرنے دونگا کہ کالج کی بنیادیں اس نقشہ کے مطابق بھر لو اور پھر میرے پاس آجاؤ کہ جی ! آپ کا دیا ہوالا کھ روپیہ خرچ ہو گیا ہے۔کالج کی صرف بنیاد میں بھری گئی ہیں۔تکمیل کے لیے اور پیسے دو۔پس انجینئر سے مشورہ کر کے اس نقشہ پر سُرخ پنسل سے نشان لگواؤ کہ ایک لاکھ۔سے بلڈنگ کا اتنا حصہ بن جائے گا۔وہ میں نے تم سے بنا ہوا لے لینا ہے۔میں نے اس وقت حجرات سے کام لیتے ہوئے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ٹھیک ہے۔میں حضور سے پیسے مانگنے نہیں آیا نقشہ منظور کرانے آیا ہوں اس کے لیے حضور دعا فرماویں۔میں لکیریں لگوا کر لے آؤں گا لیکن مجھے اجازت دی جائے کہ جماعت سے عطا یا وصول کرسکوں۔حضور نے فرمایا: ٹھیک ہے عطا یا وصول کرو لیکن وہ لکیریں ڈلوا کر لاؤ۔میں نے نقشہ پر مشورہ کرنے کے بعد لکیریں ڈالیں پھر حضور نے منظوری دی کہ کام شروع کر دو لیکن اس کے بعد نہ مجھے یا درہا کہ وہ لکیریں کس حصہ پر ڈالی گئی تھیں نہ حضور کو یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ لکیریں کہیں اور ڈالی گئی تھیں اور کالج کا پھیلاؤ زیادہ ہو گیا ہے اور رقم کا مطالبہ کر رہے ہو۔تو اللہ تعالیٰ ہر مرحلہ پر آگے بڑھنے کی توفیق دیتا چلا گیا۔جب ہم ایک جگہ پہنچتے تو میں اپنے ساتھیوں کو جو تعمیر کا کام کر رہے تھے کہ دیتا کہ اگلا کام بھی شروع کرا دو