تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 303 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 303

تاریخ احمدیت۔جلد 23 کر رہے ہیں۔303 سال 1965ء پھر ۱۹۴۴ء میں جب میں اپنی بیگم کی بیماری کی وجہ سے ان کے علاج کے لیے دہلی گیا ہوا تھا اچانک ایک دن ڈاک میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا خط مجھے ملا کہ یہاں قادیان میں ایک کالج کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے اور حضرت صاحب نے تمہیں اس کالج کا پرنسپل مقرر فرمایا ہے۔میں بڑا پریشان ہوا کہ پہلے جب میں عربی قریباً بھول چکا تھا مجھے جامعہ میں لگا دیا گیا اب جب میرا ذ ہن کلی طور پر اس چیز کی طرف متوجہ ہو چکا ہے تو مجھے وہاں سے ٹرانسفر کر کے ایک انگریزی ادارے کا پرنسپل بنادیا گیا۔اس وقت صرف انٹر میڈیٹ کالج تھا۔خیر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی نبھانے کی توفیق دے۔اور ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔ابتداء بالکل چھوٹے سے کام سے ہوئی۔اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس میں جو ساتھی ملتے ہیں وہ بڑے پیار سے کام کرنے والے اور تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔گو بہت سے میری طرح بالکل raw (خام) تھے۔میں اس وجہ سے raw تھا کہ اس میدان سے بالکل ہٹ چکا تھا۔اور عربی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا اور اکثر ان میں سے وہ تھے جو ایم اے پاس کرتے ہی وہاں آگئے تھے۔انہیں کوئی تجربہ نہ تھا بلکہ صرف آپ کے افیشیئیٹنگ پرنسپل میاں عطاء الرحمن صاحب ہی ہیں جنہیں کچھ تجربہ تھا۔باقی سب raw ہی تھے۔ہم نے جو کوششیں کیں وہ تو کیں ہمارے جو وسائل تھے شاید آپ ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ایک چھوٹی سی مثال سے اس کو واضح کر دیتا ہوں وہ یہ کہ ایک لمبے عرصہ تک پرنسپل کے دفتر کے سامنے چک بھی نہ تھی۔دروازہ یونہی گھلا رہتا تھا۔پھر ان چکوں کے حصول کے لیے محترم قاضی محمد اسلم صاحب کو سپیشل سفارش کرنی پڑی تب جا کر اس دفتر کو چکیں نصیب ہوئیں اور ایک حد تک اطمینان اور پرائیویسی جو کام کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے میسر آئی۔پھر مالی لحاظ سے بھی خُد اتعالیٰ کا میرے ساتھ عجیب سلوک رہا ہے کہ میں نے کبھی نہیں سوچا اور نہ دیکھا اور نہ پتہ کیا کہ ہمارے کھاتوں میں کتنی رقم ہے۔ہمیشہ یہ سوچا