تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 302
تاریخ احمدیت۔جلد23 302 سال 1965ء دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کے حضور دعائیں کرنے کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل رہا ہے کہ جو پر چہ بھی میں پڑھا تا رہا ہوں (اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس پڑھاتے تھے ) اس کے بڑے اچھے نتائج نکلتے رہے ہیں ایک کلاس میری ایسی تھی کہ جس کے متعلق ایک دفعہ مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں نے کچھ حصے اس کو صحیح رنگ میں نہیں پڑھائے اور اس میں طلبہ کمزور ہیں۔امتحان سے پندرہ میں دن پہلے مجھے خیال آیا کہ ایک عنوان ایسا ہے کہ اگر میں اس کے متعلق ان کو نوٹ تیار کر کے دے دوں تو خدا کے فضل سے یہ طلبہ بڑا اچھا نتیجہ نکال لیں گے۔چنانچہ میں نے ایک نوٹ تیار کیا اور کوشش کر کے میں نے خود طالب علموں کے پاس پہنچایا اور ان کو کہا کہ اس کو یاد کر لو۔چنانچہ جب پر چہ آیا تو اس میں تین سوال ایسے تھے جو میرے اس نوٹ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور چونکہ وہ مختصر اور کمپری ہینسو (مکمل) تھا اور تازہ تازہ ان کے ذہن میں تھا اس لیے میرا خیال ہے کہ اس سال نصف سے زیادہ طلبہ نے اس پر چہ میں فرسٹ ڈویژن حاصل کیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے فضل فرما دیا۔پس میرا اپنے سارے زمانہ میں یہ تجربہ رہا ہے کہ جب ہم اپنے رب کی طرف عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکتے ہیں تو وہ اپنے فضل اور رحم کی بارشیں ہم پر کرتا ہے۔ہمارا خدا بخیل نہیں بلکہ بڑا دیا لوخدا ہے۔اگر کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم بعض دفعہ لا پرواہی سے کام لیتے ہیں اور اس کی طرف جھکنے کی بجائے دوسرے دروازوں کو کھٹکھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور وہ دروازے کھولے نہیں جاتے۔تو اُس زمانہ میں جب میں جامعہ میں تھا میں نے اپنا دل و دماغ اس ادارے کو دے دیا تھا اور بڑی محنت سے اس کی نشو و نما کی طرف توجہ کی تھی اور اس زمانہ میں جب میں نے حساب لگایا تو مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ پہلے یا دوسرے سال جتنے جامعہ احمدیہ کے واقفین زندگی تبلیغ اسلام کے میدان میں اترے اس سے پہلے پانچ یا سات سال کے طلبہ کی مجموعی تعداد بھی اتنی نہ تھی۔اور اس زمانہ کے بہت سے طالب علم ہیں جو اس وقت تبلیغی میدان میں کام