تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 301 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 301

تاریخ احمدیت۔جلد 23 301 سال 1965ء ہیں اور آپ کو اس امر کے معلوم کرنے کی کوشش کی ضرورت نہیں کہ آسمان ٹھوس ہے یا نہیں بلکہ صرف اتنا سمجھنا ہے کہ انسانی دماغ پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جس میں وہ ان باتوں کو صحیح تسلیم کرتا تھا۔لیکن بعد میں جب سائنس اور دیگر علوم نے ترقی کی اور ساتھ ہی انڈسٹری نے بھی ترقی کی۔اور وہ دور بہنیں جن تک پہلے کی تخیل کی رسائی نہ تھی بنے لگیں اور انسان کو اس عالم کے متعلق نئے نئے انکشاف ہوئے تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ پُرانے خیالات ان نئے علوم میں فٹ ان ( fit in) نہیں کرتے لیکن پہلے زمانہ میں لوگ اسی طرح سوچا کرتے تھے۔پس اس رنگ میں میں نے انہیں وہ فلسفہ پڑھایا۔اسی طرح منطق کے متعلق میں نے انہیں کہا کہ اصطلاحیں ہیں اور کوئی چیز نہیں اگر منطق واقعی اس طریق فکر کا نام ہے جس کے مطابق ہمارا دماغ کام کرتا ہے اور اصطلاحوں میں طریق بیان کا نام ہے تو ایک بچہ بھی اسی طرح سے سوچتا ہے۔اگر ایک بچہ کے سامنے دو چیزیں رکھی جائیں خواہ وہ گنتی نہ جانتا ہو اور خواہ زبان سے چار نہ کہہ سکے لیکن اس کی سمجھ اور عقل میں یہی ہوگا کہ یہ چار چیزیں ہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ انہیں چار کی بجائے آٹھ سمجھنے لگ جائے۔تو دن رات صبح شام ہمارا دماغ ان طریقوں پر کام کرتا ہے۔صرف ہم نے کچھ اصطلاحیں بنالی ہیں اور اس علم کو منطق کا نام دے دیا ہے۔اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ میری کلاس جب پہلی دفعہ یو نیورسٹی میں گئی تو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سارے کے سارے طلبہ پاس ہو گئے اس وقت مجھے اپنے رب کی قدرتوں کا مزید یقین ہوا اور میں نے سمجھا کہ علوم کا سیکھنا اور سکھانا بہت حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور کمزور انسان ہونے کی حیثیت سے ہماری کوششوں میں جو کمی رہ جاتی ہے۔اس کمی کو ہم اپنی دعاؤں سے پورا کر سکتے ہیں۔یہ تجربہ ۴۱۔۱۹۴۰ء سے اب تک مجھے رہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اس کالج میں بھی سب سے کم لیکچر دینے والا میں ہی تھا۔اگر دوسرے اساتذہ سوسولیکچر دیتے تو میں چالیس پچاس سے زیادہ لیکچر نہ دے سکتا تھا۔شاید کچھ غفلت کی وجہ سے اور کچھ اپنی