تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 300 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 300

تاریخ احمدیت۔جلد 23 300 سال 1965ء طلباء اس پر چہ میں فیل ہو جاتے تھے اپنے طالب علمی کے زمانہ میں بھی میں بڑا پریشان ہوتا تھا اور کڑھتا تھا کہ ایک چیز جو مشکل نہیں اسے مشکل ترین بنا دیا گیا ہے، کیونکہ آج آپ کسی بچے کو یہ کہیں کہ آسمان ٹھوس ہیں اور ان میں ستارے اس طرح لکے ہوئے ہیں جس طرح ایک دلہن کے دوپٹے پر سونے کے ستارے لگائے ہوتے ہیں۔تو اگر چہ کتابی علوم پر اس بچے کو اتنا عبور نہ بھی ہو۔لیکن جس ماحول میں وہ پیدا ہوا اور اس نے پرورش پائی۔اس کی وجہ سے اس بچے کا دماغ بھی ان باتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔میں حیران ہوتا تھا کہ یہ ذراسی مشکل ہے اور اس کے لیے تھوڑے سے زاویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔مسئلہ حل ہو جاتا ہے کیوں استاد اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔چنانچہ جب میں پرنسپل بنا تو یہ پرچہ پڑھانے کا ذمہ میں نے خود لے لیا۔ہمارے ایک بزرگ استاد تھے مولوی ارجمند خان صاحب آپ میں سے بھی اکثر انہیں جانتے ہیں کیونکہ وہ یہاں بھی کام کرتے رہے ہیں۔انہوں نے بڑی محنت سے ان کلاسز سے نوٹ تیار کئے تھے جنہیں ہمارے محترم بزرگ سید سرور شاہ صاحب یہ علم پڑھایا کرتے تھے ، خان صاحب کا خیال یہ تھا کہ اگر کبھی موقعہ ملا تو وہ صحیح رنگ میں اس پر چہ کو پڑھایا کریں گے۔جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ایک نوجوان جوان مضامین سے دس سال تک آؤٹ آف بیچ ( غیر متعلق ) رہا ہے۔اب ہمارا پر سیل لگا دیا گیا ہے۔اور پھر یہ جو فلسفہ کا مشکل ترین پرچہ ہے اس نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے تو وہ کچھ گھبرائے۔۔۔اور ایک دفعہ مجھے ملے تو کہنے لگے میاں صاحب! آپ نے کیا ظلم کیا ہے یہ پر چہ آپ کیسے پڑھائیں گے۔میں نے اس علم کے متعلق بڑی محنت سے نوٹ تیار کئے ہیں۔آپ یہ پرچہ مجھے دے دیں۔میں نے کہا نہیں میں نے نیت کر لی ہے کہ یہ پرچہ میں خود ہی پڑھاؤ نگا باقی دیکھیں کہ اب اللہ تعالی کیا کرتا ہے چنانچہ جب فلسفہ کا مضمون میں نے پڑھانا شروع کیا تو مجھے طلباء کوصرف یہ بات سمجھانے کے لیے کہ یہ مضمون آسان ترین مضمون ہے دو تین لیکچر دینے پڑے اور بتایا کہ یہ فلسفہ کا مضمون نہیں بلکہ تاریخ فلسفہ کا مضمون ہے جو آپ لوگ یہاں پڑھتے