تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 13 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 13

تاریخ احمدیت۔جلد 23 13 سال 1965ء کے علاوہ تعلیم الاسلام کالج کی مساعی جمیلہ اور کا رہائے نمایاں کو بہت سراہا چنا نچہ فرمایا۔"آپ کا کالج اور اسی نوعیت کے سینکڑوں ادارے قومی ترقی کی اس بنیادی مہم میں نہایت اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں۔تعلیم الاسلام کالج ایک ایسا ادارہ ہے جس کی داغ بیل بھی ملتی ترقی کے اسی مشن کے مطابق رکھی گئی ہے۔اس کالج نے پندرہ سال کے قلیل عرصہ میں اپنے حلقہ اثر میں ذہنی اور اخلاقی ترقی کے لئے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔جناب پرنسپل صاحب نے اپنی سالانہ رپورٹ میں جن امور کی نشاندہی کی ہے وہ اس کے شاہد ہیں کہ یہ کالج پاکستان کی ترقی کی شاہراہ پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے سامنے بھی وہی مقاصد ہیں جن کا حصول ہمیں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔مجھے یقین واثق ہے کہ سائنس اور سائنسی انداز فکر کا حصول اس ادارہ کے مقاصد میں ممتاز سے ممتاز تر جگہ پا کر قوم کیلئے نشاۃ ثانیہ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا“۔مجلس مشاورت ۱۹۶۵ء خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کی آخری مجلس مشاورت اس سال ۲۶، ۲۷، ۲۸ مارچ ۱۹۶۵ء کو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے ہال میں منعقد ہوئی۔حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک کے مطابق شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ لائل پور (فیصل آباد ) نے اس کی صدارت فرمائی۔مولا نا محمد صادق صاحب سابق مجاہد انڈو نیشیا انچارج صیغہ زود نویسی نے شوری کی مکمل کارروائی قلمبند کی اور قاضی عزیز احمد صاحب نے اسے ریکارڈنگ مشین پر ٹیپ کرنے کی خدمت سرانجام دی۔ہال میں نشست گاہ کی ترتیب اور دیگر انتظامات منشی فتح الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر پرائیویٹ نے دوسرے کارکنوں کے تعاون سے کئے۔صدر مجلس شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے افتتاحی خطاب میں فرمایا:۔” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ یہ ہماری چھیالیسویں مجلس مشاورت ہے۔گزشتہ چھیالیس سال کے اندر جماعت نے روز بروز ، عہد بعہد جو ترقی اور تنظیم کی ہے اور جس طرح سے دوست مشوروں میں شامل ہوتے رہے اور وہ مشورے حضرت صاحب کی منظوری کے بعد نافذ ہوتے رہے۔یہ ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ہمارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم رکیں یا ٹھہریں، ہمارا کام ہے چلتے چلے جانا یہ قافلہ نہ کبھی رکا ہے اور نہ ہی انشاء اللہ بھی رکے گا۔یہ چلتا ہی چلا جائے گا۔جب تک وہ مقاصد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مقرر کئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نوشتوں میں لکھے پورے نہ ہو جائیں۔“ پھر آپ نے نمایندگان شوریٰ کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔