تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 23 299 سال 1965ء حاصل کیا اس کے بعد حضور کالج ہال میں تشریف لائے۔جہاں طلباء اپنے محبوب آقا کے لیے چشم براہ تھے۔حضور کے کرسی صدارت پر تشریف فرما ہونے کے بعد تلاوت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا۔جس کے بعد مکرم پروفیسر میاں عطاء الرحمن صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کالج نے کالج کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا۔ازاں بعد حضور نے ایک روح پرور تقریر فرمائی۔حضور انور نے اس خطاب میں نہایت بلیغ انداز میں زمانہ طالب علمی سے لیکر تعلیم الاسلام کا لج کی سر براہی تک کے واقعات اور تعلق باللہ کے ذاتی مشاہدات پر بصیرت افروز رنگ میں روشنی ڈالی۔چنانچہ فرمایا۔د میں اس درس گاہ سے قبل مختلف دوروں سے گزرا ہوں۔طالب علمی کے زمانہ میں پہلے میں نے قرآن کریم حفظ کیا۔پھر دینی اور عربی تعلیم حاصل کی۔اور پھر دنیوی تعلیم کے حاصل کرنے کی کوشش کی۔گورنمنٹ کالج میں پڑھا۔پھر انگلستان گیا اور آکسفورڈ میں بھی پڑھا۔جب میراتعلیمی زمانہ ختم ہوا اور میں انگلستان سے واپس آیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مجھے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد کے لگا دیا۔اس وقت مجھے عربی تعلیم چھوڑے قریباً دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔اس لیے میرے دماغ نے کچھ عجیب ہی کیفیت محسوس کی۔کیونکہ وہ علوم جو میرے دماغ میں اب تازہ نہیں رہے تھے۔وہی علوم مجھے پڑھانے پر مقرر کر دیا گیا۔اور میں نے دل میں کہا کہ اللہ خیر کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر نبھا سکوں۔تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے جامعہ احمدیہ کا پرنسپل بنادیا گیا۔اس وقت مجھے اللہ تعالیٰ کے پیار اور حسن کا عجیب تجربہ ہوا۔وہ یہ کہ مولوی فاضل میں ایک پرانا فلسفہ پڑھایا جاتا رہا ہے ( شاید اب بھی پڑھایا جاتا ہے) آج سے ہزاروں سال پہلے اس دنیا کے متعلق انسانی دماغ جس طرح سوچتا رہا ہے وہی فکر و تدبر (بالفاظ دیگر فلسفہ ) جن کتابوں میں درج کیا گیا ہے وہی مولوی فاضل کے کورس میں شامل تھیں اب دنیا بدل چکی، حقیقتیں نئے رنگ میں ہمارے سامنے آگئیں اس لیے اس زمانہ کے انسانی دماغ کی سوچ ہمارے دماغ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔لیکن ان کو بطور حقائق کے پڑھایا جاتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اس پر چہ کو جامعہ میں مشکل ترین پر چہ سمجھا جاتا تھا اور اکثر