تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 295
تاریخ احمدیت۔جلد 23 295 سال 1965ء کے ساتھ اپنے حریف کو شکست دے سکتا ہے اور دیتا ہے لیکن یہ تمام شکستیں جو مخالف اس کے ہاتھ سے اُٹھاتا ہے وہ میرے نزدیک وہ نتیجہ پیدا نہیں کرسکتیں جو نتیجہ ہم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر یہ بائیس سالہ نوجوان ایسا ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کا سجدہ ریز ہونا گودنیا سے پوشیدہ ہو لیکن اثر السجود سے اس کے چہرہ پر نور نظر آئے تو لوگ اس کی طرف جھکنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے پہلے ڈرتے ڈرتے اپنے شبہات کے ساتھ اپنی ضرورتوں کے وقت وہ اس کے پاس آئیں گے۔اور خواہ تکلف سے کہیں لیکن کہیں گے کہ ہمیں یہ یہ تکلیف لاحق ہے۔ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ہمارے لیے دعا کرو۔جب ہمارا وہی نوجوان خدا تعالیٰ کے حضور تنہائی کی گھڑیوں میں جھکے گا اور اپنے رب کے حضور یہ دعا کرے گا کہ اے میرے خدا!! مجھے ہی تیری رضا کی خواہش نہیں ان کو بھی ہے۔اور میرے دل میں تڑپ ہے کہ یہ تیرے حضور میں جھکیں۔یہ ایک موقع ہے تو انہیں اپنا چہرہ دکھا سکتا ہے میری دعا کو قبول کر اور انہیں یہ سمجھ عطا کر کہ وہ کام جو دعا سے ہو سکتا ہے وہ کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتا۔کیونکہ کوئی دوسرا تیری قدرتوں اور طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جب اس کی دعائیں اپنے ماحول میں پوری ہونا شروع ہو جائیں گی تو لوگ صرف یہ نہیں کہیں گے کہ یہ احمدی نوجوان علمی دلائل سے پوری طرح مسلح ہے بلکہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہے وہ ایک ایسا نوجوان ہے جس میں پتہ نہیں کیا رکھا ہے کہ جب وہ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے تو پھر ان کے دلوں کے اندر نیک تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔اگر ہم تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مثلاً ہندوستان میں مسلمانوں نے جو تبلیغ کی اس میں کم از کم ۸۰ فیصدی اس قسم کے نمونہ کا اثر ہے اور شاید باقی ۲۰ فیصدی دلائل کا (اثر ) ہے۔صوفی لوگ آتے تھے۔فقیرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے کسی ایسی ایک جگہ کو منتخب کرتے جو شرک کا گڑھ ہوتا اور وہاں وہ بیٹھ جاتے اور اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے کہ اے خدا! تیرے یہ بندے تجھ سے