تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 292 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 292

تاریخ احمدیت۔جلد 23 292 سال 1965ء میں آپ سے ایک سال آگے نکل گیا تھا جو درست ہے۔کیونکہ اس سال غالباً صرف انہوں نے ہی مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا تھا اس کے بعد پھر جامعہ علیحدہ ہوا اور جامعہ کی بلڈنگ عمارت میں منتقل ہوئی جہاں بعد میں فضل عمر ہوٹل بنا۔وہ عمارت تو قابل استعمال تھی۔لیکن اس کی چار دیواری کھنڈرات معلوم ہوتی تھی۔میں نے اور میرے بعض دوستوں نے اپنے طور پر یہ سکیم تیار کی کہ ہم ہر جمعہ کے روز وہاں اکٹھے ہوا کریں گے اور وقار عمل کے ذریعہ اس کی اصلاح کریں گے۔اس وقت ابھی اس قسم کا وقار عمل تو شروع نہیں ہوا تھا جس طرح خدام الاحمدیہ کے بننے کے بعد ہوا ہے لیکن ہم نے وقار عمل کا طریق بنایا اور ہم جمعہ والے دن وہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے اور گھنٹہ دو گھنٹے بیرونی دیوار کے ان کھنڈرات کو درست کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ہمارے اساتذہ کے تعلق اور پیار کا یہ حال تھا کہ جب ہم پہلی دفعہ وہاں گئے اور حضرت حافظ روشن علی صاحب کو یہ علم ہوا کہ بعض طلبہ یہاں جمع ہوتے ہیں اور گھنٹہ دو گھنٹے وقار عمل کرتے ہیں تو اس کے بعد سے بلا ناغہ وہ بھی وہاں پہنچ جاتے اور چار پائی پر بیٹھ جاتے ہمیں کام کرتے دیکھتے اور نیکی کی باتیں بھی ہمارے کانوں میں ڈالتے جاتے۔اس طرح وہ وقت بھی ایک قسم کا تعلیمی اور تدریسی وقت ہی بن جاتا تھا۔ہمارے معیار زندگی کا یہ حال تھا کہ میں دونی یا چوٹی کے میٹھے چنے خرید کر لے جا تا تھا اور ہم سب دوست وقار عمل کے بعد وہ میٹھے چنے کھایا کرتے تھے اور بڑے خوش ہوا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس انٹرٹین منٹ ( تفریحی موقع ) کا انتظام کیا ہے۔اب تو حالات بہت بدل گئے ہیں۔ان دنوں میں ہم نے بہت سادہ زندگی گزاری ہے اور اسی میں لطف بھی ہے۔اب بھی میری رائے اور میرے ذہن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ جولطف اس سادگی میں تھا وہ اس آج کے تکلف میں نہیں ہے۔یہ میرا پر انا تعلق آپ طلبہ سے ہے چونکہ آپ میں سے ہر ایک میرا جامعہ احمدیہ کا فیلو ہے اس لیے میں اور آپ ایک ہی ادارہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے مجھے دوسری تعلیم بھی دلوائی۔اور جب میں ۱۹۳۸ء میں