تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 291 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 291

تاریخ احمدیت۔جلد 23 291 سال 1965ء شاید اس سے بھی پہلے تو حضور خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشادات ، ہدایات اور نصائح اور تربیت کے جو طریق تھے ان سے دل نے تاثر لیا تھا کہ یہی (جامعہ) وہ جگہ ہے جہاں علم کو حاصل کرنا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے علم حاصل کرنے کے بعد اس کے استعمال کا طریق سیکھنا ہے۔حفظ قرآن مجید کے بعد میں جامعہ احمدیہ میں آیا۔اس وقت یہ مدرسہ احمدیہ کہلاتا تھا۔میں چوتھی جماعت میں داخل ہوا تھا کیونکہ قرآن کریم کے حفظ کی وجہ سے اپنی عمر کے چند سال میں پہلے ہی خرچ کر چکا تھا۔اور علاوہ حفظ قرآن کریم کے کچھ اور بھی پڑھتا رہا تھا۔لیکن چوتھی جماعت میں داخل ہو کر بھی مجھے یہ احساس تھا کہ میں اپنے ہمجولیوں سے پیچھے رہ گیا ہوں یعنی عمر کے لحاظ سے جو میرے ساتھی بننے چاہئیں تھے وہ آگے ہیں اور میں پیچھے ہوں۔اس احساس کے نتیجہ میں میں نے اپنے دل میں اس بچپن کے زمانے میں یہ فیصلہ کیا کہ میں اگلی جماعت کے لیے ایک سال کا انتظار نہیں کروں گا بلکہ جہاں تک ہوسکا پوری محنت اور کوشش کر کے ایک ایک سال میں ایک سے زائد امتحان پاس کرنے کی کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس وقت کے اساتذہ میری تعلیم پر بڑی محبت سے توجہ دیتے رہے۔اور میں نے کافی حد تک اس کمی کو پورا کرلیا۔اور دو دفعہ میں نے ایک کی بجائے دوسالوں کا امتحان دیا۔اور اس طرح دو سال جو میں پیچھے تھا اپنی عمر کے لحاظ سے اپنی جگہ پر پہنچ گیا اور زندگی کی بہترین اور معصوم گھڑیاں جو بچپن کی ہوتی ہیں۔میں نے اسی درس گاہ میں گزاریں اور بہترین دوست اسی درسگاہ میں پائے۔جن پر میں اب بھی فخر کر سکتا ہوں۔ان میں سے صرف پاکستانی ہی نہ تھے بلکہ میرے بڑے گہرے اور پیارے دوستوں میں سے انڈونیشیا ( جاوا، سماٹرا ) میں رہنے والے بھی بعض طلباء تھے جن میں ایک ابوبکر ایوب صاحب بھی ہیں۔اُس وقت انڈونیشیا سے کافی طلباء مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے آئے تھے۔قریباً سب سے میری دوستی تھی لیکن گہری دوستی ایک طالب علم کی اسی سے ہو سکتی ہے ، جس کا مزاج اور افتاد اس کی طبع کے مناسب ہو۔ابوبکر ایوب صاحب بڑے ذہین بڑے شگفتہ دل طالب علم تھے اور ایک دو اور بھی تھے۔جن میں ایک ہمارے مولوی محمد صادق صاحب (سابق مبلغ سماٹرا ) جو یہاں بیٹھے ہیں اسی زمانہ کے ہیں، اور بعض دفعہ مجھے مزاحاً کہا کرتے کہ