تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 12
تاریخ احمدیت۔جلد 23 12 سال 1965ء تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء کا الوداعیہ • امارچ ۱۹۶۵ء کی شام کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے بشیر ہال میں طلباء جماعت دہم کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پر ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں طلباء کو تین زریں نصائح فرما ئیں اول صحت جسمانی دوم علمی ترقی سوم تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام کا مقصد پیش نظر رکھنا۔آپ نے فرمایا ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سکول ایک خاص مقصد کے پیش نظر قائم فرمایا تھاوہ مقصد یہ ہے کہ اسلام نے انسان کو دینی و دنیوی فلاح کے لئے جو بے مثال اور لازوال تعلیم دی ہے بدل و جان اس کی تحصیل کر کے اپنی زندگیوں میں اس کا عملی نمونہ پیش کیا جائے اور اس شان سے پیش کیا جائے کہ اس مادر علمی سے فیض یافتہ باخدا ہی نہیں بلکہ خدا نما وجود بن کر دنیا کی ہدایت و رہنمائی کا موجب بنیں۔ہمارے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اس مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اس میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں“۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی کا جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب ۱۴ مارچ ۱۹۶۵ء کو ساڑھے نو بجے تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں تقسیم اسناد و انعامات کی تقریب نہایت سادہ اور پُر وقار طریق پر عمل میں آئی۔جس میں ایم۔اے، بی۔ایس سی اور بی۔اے کے فارغ التحصیل طلباء کو ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کا لج نے پنجاب یو نیورسٹی سے مفوضہ اختیارات کی بناء پر اسناد تقسیم فرمائیں۔بعد ازاں کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔آپ نے کالج کے شاندار نتائج، اس کی علمی وادبی اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں نیز کھیلوں کے میدان میں کالج کی شاندار کامیابیوں پر اختصار سے روشنی ڈالی اور یو نیورسٹی پر زور دیا کہ وہ ملحقہ کا لجوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند نہ کرے اور عدل و انصاف سے کام لے۔آپ نے بتایا کہ حقیقی علم کا ابدی سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے طلباء کو علم کے اس حقیقی سر چشمہ سے مضبوط تعلق پیدا کرنا چاہیئے۔آپ کے بعد پاکستان کے بلند پایہ ماہر تعلیم سائنسی علوم جدیدہ کے مشہور محقق اور ممتاز مفکر جناب ڈاکٹر ظفر علی ہاشمی وائس چانسلر مغربی پاکستان زرعی یونیورسٹی لائکپور نے ایک نہایت پر مغز خطبہ اسناد پڑھا جس میں آپ نے پاکستان میں سائنسی علوم کی ترویج اور سائنسی ترقی کی اہمیت واضح کرنے