تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 287 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 287

تاریخ احمدیت۔جلد 23 287 سال 1965ء ہو جائے مگر اسکی بیعت جماعت پر لازمی نہ قرار دی جائے آخر میں یہ موقف اختیار کیا کہ بے شک خلیفہ کا انتخاب کر لو اور اس کی بیعت بھی لازم قرار دے لو ہم اُسکی بیعت کرلیں گے لیکن وہ خلیفہ صدرانجمن احمدیہ کا حاکم نہیں بلکہ ماتحت ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو جو اس محاذ پر استحکام خلافت کی جنگ لڑرہے تھے یہ زبر دست بشارت دی کہ ہم تمہیں یہ توفیق دیں گے کہ تم خلافت کو جماعت احمدیہ میں اسقدر مستحکم کر دو گے کہ آئندہ اس قسم کا فتنہ جو مارچ ۱۹۱۴ء میں جماعت احمدیہ میں پیدا ہوا پھر کبھی پیدا نہ ہوگا۔ان تاریخی واقعات کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے حضرت مصلح موعود کے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰ مارچ ۱۹۱۴ء کا حسب ذیل اقتباس پڑھ کر سنایا: اس وقت دشمن خوش ہے کہ احمدیوں میں اب تفرقہ پڑ گیا ہے اور یہ جلد تباہ ہو جائیں گے۔اور اس وقت ہمارے ساتھ زُلْزِلُوا زِلْزَ الَّا شَدِيدًا والا معاملہ ہے یہ آخری ابتلاء ہے جیسا کہ احزاب کے موقعہ کے بعد دشمن میں یہ جرأت نہ تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرے ایسے ہی ہم پر یہ آخری موقع اور دشمن کا (آخری) حملہ ہے۔خدا تعالیٰ چاہے ہم کامیاب ہوں تو پھر دشمن ہم پر حملہ نہ کرے گا۔بلکہ ہم دشمن پر حملہ کریں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب ( کے موقع پر فرمایا تھا کہ اب ہم ہی دشمن پر حملہ کریں گے اور شکست دیں گے اور دشمن اب ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہوگا۔یہ ایک آخری ابتلا ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔دشمن کو پھر کبھی خوشی کا موقع نہ ملے گا۔“ پھر اقتباس کا اگلا حصہ حضور نے پڑھ کر سنایا جس میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔جنگیں تو احزاب کے بعد میں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن پھر دشمن کو یہ حوصلہ نہیں ہوا کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو۔اسی طرح یہ آخری فتنہ ہے۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ۔یہ فتنہ احزاب والا ہے جس طرح وہاں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حالت تھی وہی اب یہاں ہماری حالت ہے۔اور جو اُس وقت دشمن کی حالت ہوئی۔وہی اب ( ہمارے) دشمن کے ساتھ ہوگی۔تمہیں چاہیے کہ تم آگے بڑھو اور دعا میں لگ جاؤ۔یہ پر شوکت اقتباس سنانے کے بعد فرمایا: 164 66