تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 279 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 279

تاریخ احمدیت۔جلد 23 279 سال 1965ء (اس کے بعد بیعت ہوئی اور پھر دعا کی گئی جس میں گریہ وزاری اور آہ و بکا کا عجیب نظارہ دیکھنے میں آیا )۔پھر حضور نے تشہد، تعوذ اور فاتحہ شریف کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آپ سب دوست جانتے ہیں کہ کل صبح سویرے دو بجکر ہیں منٹ پر ہمارے پیارے امام اور مطاع کا وصال ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کے مطابق جو آپ نے اپنے موعود بیٹے مصلح موعود کے لئے کی تھیں۔آپ کا وجود جن برکات کا حامل تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔جماعت کے جس فرد بشر سے بھی آپ بات کریں۔اسے بے شمار احسان یاد کرتے پائیں گے جو حضور نے وقتاً فوقتاً اس پر کئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کے دلوں میں آپ کے لئے بے انتہا محبت اور روحانی تعلق پیدا کیا ہوا تھا۔آپ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اپنے محبوب سے جاملے اور کچھ عرصہ یعنی چند گھنٹوں کے لئے یہ جماعت بظاہر لاوارث رہ گئی ( آہ وزاری کی آواز میں بلند ہوئیں اور کچھ لمحوں کے لئے آپ بھی رُک گئے ) پھر فرمایا: یہ وقت الہی جماعتوں کے لئے بڑا نازک وقت ہوتا ہے گویا ایک قسم کی قیامت بپا ہو جاتی ہے۔ایسے وقت میں جہاں اپنے گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں وہاں اغیار برائی کی امیدیں لئے جماعت کو تک رہے ہوتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ شاید یہ وقت اس الہی جماعت کے انتشار یا اس میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہونے یا اس کے اتحاد، اس کے اتفاق اور اس کی باہمی محبت میں رخنہ پڑنے کا ہولیکن جو سلسلہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کیا جاتا ہے وہ ایسے نازک دوروں میں اپنی موت کا پیام نہیں بلکہ اپنی زندگی کا پیام لے کر آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ قیادت کا انتقال ایک کندھے سے دوسرے کندھے کی طرف اس لئے نہیں کرتا کہ اس کا ایک بندہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا۔اور وہ اس کو طاقتور اور جوان رکھنے پر قادر نہیں۔کیونکہ ہمارا پیارا مولیٰ ہر شے پر قادر ہے بلکہ اس لئے کہ وہ دنیا پر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہر نگاہ میری طرف ہی اٹھنی چاہیے۔بندہ بڑا ہو یا چھوٹا آخر بندہ ہی ہے، تمام فیوض کا منبع اور تمام برکات کا حقیقی سرچشمہ میری ہی ذات ہے۔