تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 280 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 280

تاریخ احمدیت۔جلد 23 280 سال 1965ء یہ توحید کا سبق دلوں میں بٹھانے کے لئے وہ اپنے ایک بندے کو اپنے پاس بلا لیتا ہے اور ایک دوسرے بندہ کو جو دنیا کی نگاہوں میں انتہائی طور پر کمزور اور ذلیل اور نااہل ہوتا ہے، کہتا ہے کہ اٹھ اور میرا کام سنبھال، اپنی کمزوریوں کی طرف نہ دیکھ ، اپنی کم علمی اور جہالت کو نظر انداز کر دے، ہاں میری طرف دیکھ کہ میں تمام طاقتوں کا مالک ہوں۔میرے سے ہی امید رکھا اور مجھ پر ہی تو کل کر ، کہ تمام علوم کے سوتے مجھ سے ہی پھوٹتے ہیں، میں وہ ہوں جس نے تیرے آقا کو ایک ہی رات میں چالیس ہزار کے قریب عربی مصادر سکھا دیئے تھے اور میری طاقتوں میں کوئی کمی نہ آئی تھی ، میں وہ ہوں جس نے نہایت نازک حالت میں سے اسلام کو اٹھایا تھا۔اور جب انسان نے اپنی تلوار سے اسے مٹانا چاہا، تو میں اس تلوار اور اسلام کے درمیان حائل ہو گیا۔اس وقت دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں موجود تھیں۔لیکن دنیا کی کوئی طاقت خواہ کتنی ہی بڑی تھی اسلام کو نہ مٹاسکی۔ہمارا رب کہتا ہے کہ آج پھر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں دنیا میں اسلام کو غالب کروں گا اور اسلام دنیا پر غالب ہوکر رہے گا اور ان کمزور ہاتھوں کے ذریعہ سے غالب ہوکر رہے گا۔ہم اپنی کمزوریوں کو کیا دیکھیں ، ہماری نظر تو اُس ہاتھ پر ہے جو ہمیں اپنے کمزور ہاتھوں کے پیچھے جنبش کرتا نظر آتا ہے۔ہم اپنی کم طاقتی کا خیال کیوں کریں کیونکہ ہمارا تو کل تو اُس طاقت پر ہے کہ جس نے دنیا کی ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹا ہوا ہے اور اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔کل شام کو اس مجلس انتخاب نے خاکسار کومنتخب کیا ہے اور خدا شاہد ہے کہ آج صبح بھی میری حالت ایسی تھی جیسے اُس شخص کی ہوتی ہے کہ جس کا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو اس کو یقین نہیں آتا کہ اس کا وہ عزیز اس سے جدا ہو چکا ہے۔مجھے بھی یقین نہیں آتا۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید میں خواب دیکھ رہا ہوں یہ کیا ہوا ( لوگوں کی آہ وزاری کی آوازیں) جس کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے ڈھال بنایا تھا اس ڈھال کو اُس نے ہم سے لے لیا اور اس نے مجھے آگے کر دیا میں بہت ہی کمزور ہوں ، بلکہ کچھ بھی نہیں۔شاید مٹی