تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 277
تاریخ احمدیت۔جلد 23 277 سال 1965ء اس قدیم نوشتہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اکتوبر ۱۹۰۷ء میں الہامی بشارت دی گئی کہ: " آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے ( یعنی آئندہ کسی وقت لڑکا پیدا ہو گا ) ا۔۲۔" إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِیم ( ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں) يَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَكِ ( وہ مبارک احمد کی شبیہ ہوگا ) 156 مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے دسمبر ۱۹۳۰ء میں اپنی کتاب تفہیمات ربانیہ صفحہ ۱۳۶ پر لکھا کہ: ’صاف کھل گیا کہ شبیہ مبارک احمد آپ ( مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے صلب سے نہ ہوگا بلکہ آپ کا پوتا ہوگا۔اے منکرین سنو اور گوشِ ہوش سے سنو کہ مبارک احمد کا قائمقام اور شبیہ ۶ نومبر ۱۹۰۹ء کو پیدا ہونے والا مولود مسعود ہے جس کا نام صاحبزادہ ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا فرزندار جمند ہے۔کیا کوئی ہے جو ایمان لائے۔“ حضرت مصلح موعود کی پیشگوئی حضرت مصلح موعود نے اپنے ایک مکتوب میں یہ پیشگوئی تحریر فرمائی: مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا 157- ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا“۔حضور نے ۲۷ دسمبر ۱۹۵۶ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خلیفہ ثالث کی نسبت یہ عظیم الشان خوشخبری دی که: ” جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے۔میں اس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ بچنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہوگا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو، ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔“ نیز فرمایا: پس میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے۔ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکرلیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔“ 158