تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 270
تاریخ احمدیت۔جلد 23 حفظ قرآن اور مدرسہ احمدیہ میں داخلہ 270 سال 1965ء ۱۷ را پریل ۱۹۲۲ء کو جبکہ آپ کی عمر تیرہ برس کی تھی آپ کو تکمیل حفظ قرآن کی سعادت نصیب ہوئی جس کی تاریخ ” حافظ قرآن کے الفاظ میں نکلی۔محترم حافظ سلطان حامد صاحب ملتانی مرحوم کو آپ کے استاد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔حفظ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد آپ پہلے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب سے پرائیویٹ طور پر عربی اور اردو وغیرہ پڑھتے رہے ازاں بعد دینی علوم کی تحصیل کے لئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔قومی وملی خدمت کا جذ به جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء کے دوسرے روز ۲۷ دسمبر کو جلسہ گاہ بالکل ناکافی ہوگئی جس پر راتوں رات اسے وسیع کر دیا گیا۔مدرسہ احمدیہ کے طلبہ اور دیگر اصحاب ساری رات مصروف عمل رہے۔شہتیر یاں اٹھا کر لانے، اینٹیں اور گارا بہم پہنچانے میں پوری توجہ خلوص اور محنت سے کام کیا۔ان رضا کار طلباء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی شامل تھے جو ساری رات یہ خدمت بجالاتے رہے۔دو ریز روفند تحریک کے لئے جد وجہد سید نا حضرت خلیفہ المسح الثانی نے تبلیغ اسلام اور مسلمانوں کی اقتصادی وسماجی ترقی و بہبود کے لئے ۱۹۲۷ء میں ایک ریز روفنڈ جاری فرمایا تھا اس تحریک میں دوسرے احمدی طلبہ کے دوش بدوش حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد نے بھی سرگرم حصہ لیا۔چنانچہ سید نا المصلح الموعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء پر فرمایا: اس سال چھٹیوں کے ایام میں ہمارے سکولوں کے طلباء ڈیڑھ ہزار روپیہ کے قریب چندہ جمع کر کے لائے۔۔۔۔چندہ لانے والے طلباء میں میرالڑ کا ناصر احمد بھی تھا جو ایک سو چھتیں روپیہ لایا تھا حالانکہ اسے کبھی اس سے پہلے دوسرے لوگوں سے چندہ لینے کا موقع نہ ملا تھا۔مولوی فاضل میں کامیابی 152 جولائی ۱۹۲۹ء میں آپ نے جامعہ احمدیہ قادیان سے پنجاب یونیورسٹی کا امتحان ”مولوی فاضل“ پاس کیا۔