تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 9 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 9

تاریخ احمدیت۔جلد 23 9 سال 1965ء شخصیت میں ہے۔علماء کہتے ہیں کہ بیشک حضرت مسیح بحالت نبوت تشریف لائیں گے ان پر وحی بھی نازل ہو گی وحی لانے والے حضرت جبرئیل ہوں گے مگر نازل ہونے والے مسیح غلام احمد قادیانی نہیں ہیں۔وہ تو آئیں گے۔گویا فرق یہ ہے کہ قادیانی کہتے ہیں کہ عیسی نبی اللہ تشریف لے آئے مولوی کہتے ہیں کہ نہیں وہ ابھی نہیں آئے مگر آئیں گے ضرور۔پھر قادیانیوں اور ان کے مخالف مولویوں میں فرق کیا رہا؟ اصول میں دونوں متفق ہیں۔مابہ النزاع صرف شخصیت ہے حیرت ہے کہ ان پرانے قادیانیوں کو کوئی بھی ختم نبوت کا منکر قرار نہیں دیتا یہ نئے قادیانی تو ان ہی مولویوں کے شاگرد ہیں پس غضب یہ ہوا کہ سیڑھی مولویوں نے مہیا کی اور چڑھ گئے بام رسالت پر غلام احمد قادیانی۔محنت کس نے کی اور پھل کس نے کھایا۔ہم تو دونوں قادیانیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ختم نبوت کی عمارت میں کوئی رخنہ پیدا نہ ہو سکے۔اصولی رنگ میں قادیانیوں کی ہمنوائی کرنے کے بعد ان کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہے اسی لئے علامہ سید رشید رضا مصری نے پہلے حیات مسیح اور نزول مسیح سے انکار کیا اور پھر مرزا غلام احمد کے مقابل پر آئے اور ان کی تکفیر کی۔علامہ اقبال نے بھی نزول مسیح کو مجوسی سازش سے تعبیر کیا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی یہی راہ اختیار کی کیونکہ اس کے بغیر قادیانیت کا استیصال نہیں کر سکتے ہم آخر میں فقہ حنفیہ کے مشہور امام ملا علی قاری کا ایک فیصلہ بھی درج کرنا چاہتے ہیں جس سے شہ پا کر غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ملا صاحب نے ایک موضوع یا ضعیف حدیث کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ ہوتا تو وہ میرے بعد سچا نبی ہوتا“ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حدیث کا مفہوم صحیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہوتے۔اس طرح حضرت عمرؓ نبی بنادئیے جاتے تو وہ دونوں حضور ہی کے متبع ہوتے بس اس کا ہونا خاتم النبین کی نفی نہیں کرتا کیونکہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر دے اور وہ آپ کی امت میں سے نہ ہو۔( موضوعات کبیر ملاعلی قاری سختی لام) یہی وہ بات ہے جس کا سہارا لے کر غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ شریعت محمدی کو منسوخ کرنے نہیں آئے۔نیز یہ کہ میں امتی نبی ہوں۔غرض مرزا قادیانی کو خود مولویوں نے پیدا کیا اور خود ہی ان کی تکفیر میں لگ گئے۔خلاصہ یہ کہ مولوی صاحبان ختم نبوت سے انکار کرنے پر کافر نہیں ہو سکتے تو بیچارے قادیانیوں کو کا فرکیوں قرار دیا جائے۔