تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 8
تاریخ احمدیت۔جلد 23 8 سال 1965ء نے فرمایا کہ جو شخص حج کی فرضیت کا قائل ہے اور اسے اسلام کا اہم رکن سمجھتا ہے اسے حج سے روکنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔یہ واقعہ ہم نے مرحوم کی زندگی میں خود بعض مولویوں کی زبانی سنا تھا ممکن ہے بعض اخبارات میں بھی شائع ہوا ہو۔ہمارے خیال میں جن قادیانیوں سے توبہ کرائی گئی اگر وہ تو بہ نامہ میں تحریر کر دیتے کہ (۱) ہم مرزا غلام احمد کو نبی اور مسیح موعود ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ خاتم المرسلین کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔خواہ پرانا ہو یا نیا۔خالی ہو یا بروزی حقیقی ہو یا مجازی۔اسرائیلی ہو یا غیر اسرائیلی۔چونکہ آیۂ خاتم النبین میں مطلق نبوت کی نفی کی گئی ہے۔(۲) مگریہ مولوی خود مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور بحالت نبوت آئیں گے ( ینزل عیسی۔نبی اللہ مسلم شریف) یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان پر وحی بھی نازل ہوگی حدیث مسلم از نواس بن سمعان ) اور یہ بھی کہ وحی لانے والے حضرت جبرئیل ہوں گے۔( حج الکرامہ فی آثار القیامہ۔از نواب والا جاہ صدیق خاں مرحوم) اور یہ بھی کہ جب حضرت مسیح آئیں گے تو ان کا انکار کرنے والے کافر ہوں گے (فتویٰ دارالعلوم دیو بند نمبر یاد نہیں رہا ) لہذا ہم تو ان تمام باتوں سے تو بہ کرتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح اپنی خصوصیات کے ساتھ آگئے تو باب نبوت مفتوح ہو جائے گا۔اب ان مولوی صاحبان سے بھی تو بہ کرانی چاہیئے کہ جو حضرت مسیح کی آمد ثانی تسلیم کر کے اور ان کو نبی مان کر اور ان پر بذریعہ جبرئیل وحی نازل کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔یہی وہ مولوی صاحبان ہیں کہ بام رسالت پر چڑھنے کے لئے غلام احمد کے لئے سیڑھی مہیا کی اور جب وہ چڑھ گئے تو کہنے لگے کہ اس نے نبوت کا دروازہ چوپٹ کھول دیا۔ہم نے جہاں تک غور کیا ہے حضرت مسیح کی آمد ثانی بحالت نبوت کے قائل علماء خود ختم نبوت کے منکر ہیں۔ان ہی کی استدلالی حدیثوں کا سہارا لے کر مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیح موعود اور نبی ہونے کا دعوی کیا۔علماء کو رشک ہے کہ مرزا قادیانی تو بازی لے گیا اور اس نے مسلمانوں کا انتظار ختم کرا دیا اور ہم جونزول مسیح کو عقیدہ میں شامل کرتے رہے ہیں خالی ہاتھ رہ گئے۔قادیانیوں کا مسیح موعود آگیا اور ہم ٹکٹکی لگا کر آسمان ہی کو تک رہے ہیں کہ کب حضرت مسیح تشریف لا ئیں اور کب ہم ان کے منکروں کو کا فرقراردیں۔یہ قادیانی اور ان کے مخالف علماء دونوں اصولی طور پر ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں اختلاف صرف