تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 237
تاریخ احمدیت۔جلد 23 237 نظام دکن کو تبلیغ کی خاطر تحفۃ الملوک“ شائع فرمائی۔سال 1965ء صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت میر حامد شاہ صاحب نے خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی۔(۱۹۱۴ء میں اختلاف کے موقع پر غیر مبائعین نے ۴ احباب کے نام جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والوں سے بیعت لینے کے لئے پیش کئے۔(۱) حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب۔(۲) حضرت سید حامد شاہ صاحب۔(۳) حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری۔(۴) جناب خواجہ کمال الدین صاحب۔صرف خواجہ صاحب محروم رہے باقی دو احباب نے بھی حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی بیعت کر لی تھی )۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے والی کبھو پال نواب سلطان جہاں کو احمدیت کی دعوت پر مشتمل خط رقم فرمایا۔ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغی وفود نے دورے کئے۔منارة امسیح کی دوبارہ تعمیر کا آغاز۔قدرت ثانیہ کے دوسرے دور کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔حضور کی تقاریر برکات خلافت کے عنوان سے شائع ہوئیں۔جلسہ سالانہ خلاف معمول پانچ دن جاری رہا۔۱۹۱۵ء حضور نے ”القول الفصل، تصنیف فرمائی۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب نے سیلون میں احمد یہ مشن قائم کیا۔حضور کی تصنیف ”حقیقۃ النبوۃ “ شائع ہوئی۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب نے ماریشس میں احمد یہ مشن قائم کیا۔قادیان میں مبلغین کلاس کا اجرا۔حضور کی بیان فرمودہ قرآن کریم کے پہلے پارہ کی تفسیر اردو اور انگریزی زبان میں شائع ہوئی۔مشہور مخیر خادم سلسلہ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب آف سکندر آباد دکن کی بیعت۔قادیان سے ہفت روزہ فاروق کا اجرا۔١٩١٦ء مسٹر والٹر ( سیکرٹری سینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن لاہور ) قادیان آئے۔