تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 216 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 216

تاریخ احمدیت۔جلد 23 216 سال 1965ء انصاف کی طرف مائل کیا۔اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں کے ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں اور خاص اسلامی کام سرانجام 66 دے رہی ہے۔135 لکھتے ہیں:۔مشہور صحافی وقار انبالوی اپنے روز نامہ ”سفینہ کی ۱۳ نومبر ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں گزشتہ اتوار کوامیر جماعت احمدیہ نے لاہور کے اخبار نویسوں کو اپنی نئی بستی ربوہ کا مقام دیکھنے کی دعوت دی اور انہیں ساتھ لے کر وہاں کا دورہ کیا۔اس دورے کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں۔ایک مہاجر کی حیثیت سے ربوہ ہمارے لئے ایک سبق ہے ساٹھ لاکھ مہاجر پاکستان آئے لیکن اس طرح کہ وہاں سے بھی اجڑے اور یہاں پر بھی کسمپرسی نے انہیں منتشر کر رکھا۔یہ لوگ مسلمان تھے۔رب العالمین کے پرستار اور رحمتہ للعالمین کے نام لیوا، مساوات واخوت کے علمبر دار لیکن اتنی بڑی مصیبت بھی انہیں یکجا نہ کر سکی اس کے برعکس ہم اعتقادی حیثیت سے احمدیوں پر ہمیشہ طعنہ زن رہے ہیں لیکن ان کی تنظیم، ان کی اخوت اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کی حمایت نے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا قادیان آباد کرنے کی ابتدا کر دی ہے مہاجر بن کر وہ لوگ بھی آئے جن میں خدا کے فضل سے ایک ایک آدمی ایسی بستیاں بسا سکتا تھا لیکن ان کا رو پید ان کی ذات کے علاوہ کسی غریب مہاجر کے کام نہ آسکا۔ربوہ ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے محلِ نظر ہے۔وہ یہ کہ حکومت بھی اس سے سبق لے سکتی ہے اور مہاجرین کی صنعتی بستیاں اس نمونے پر بسا سکتی ہے۔اس طرح ربوہ عوام اور حکومت کے لئے ایک مثال ہے اور زبان سے کہہ رہا ہے کہ لمبے چوڑے دعوے کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور عملی کام کرنے والے کوئی دعوی کئے بغیر کچھ کر دکھاتے ہیں“۔غیر از جماعت معززین کے تعزیتی خطوط 136 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے وصال پر غیر از جماعت اصحاب نے بھی دلی صدمہ محسوس کیا۔چنانچہ ان کی طرف سے بکثرت ہمدردی اور تعزیت کے خطوط موصول ہوئے۔ایسے چند ایک خطوط درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔