تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 212 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 212

تاریخ احمدیت۔جلد 23 212 سال 1965ء یہاں تک کہ آپ کی براہ راست کوششوں کے ماتحت ۱۹۳۴ء میں وہاں پر اسمبلی قائم ہوئی۔۱۹۴۸ء میں آپ کی کوشش سے احمدیوں کی ایک رضا کار بٹالین قائم ہوئی جس نے دو برس تک محاذ کشمیر میں نا قابل فراموش خدمات انجام دیں۔اس وقت بھی جماعت احمدیہ اہل کشمیر کی بہبودی کے لئے برابر کام کر رہی ہے۔۱۹۴۷ء میں جب ملکی تقسیم کا سوال پیدا ہو کر باؤنڈری کمیشن کا تقرر ہوا۔تو آپ نے مسلمانوں کی بہبودی کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔اس اہم کام کے لئے قادیان سے لاہور آ کر کئی دن رہے اور بڑی تگ و دو کر کے باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایسا مواد فراہم کیا جو مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید تھا۔اور اس موقع پر انگلستان سے اپنے خرچ پر ایک ماہر فن مسٹر سپیٹ (SPATE) کو بلوایا کہ حد بندی کے کام میں وہ مسلمانوں کے نمائندہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی امداد کرے۔اس سے قبل مسلم لیگ اور اس کے مخالف پارٹیوں کے درمیان جو کشمکش تھی اسے دور کرنے کے لئے بھی امام جماعت احمدیہ نے انتھک کوشش فرمائی۔اور دہلی میں جا کر تمام مسلمان لیڈروں سے مل ملا کر اس کام کو انجام دیا۔۱۹۴۷ء کے قیامت خیز انقلاب میں جماعت احمدیہ کو بھی اپنے مرکز قادیان سے نکلنا پڑا۔لیکن آپ کے تدبر اور اولوالعزمی نے نہ صرف قادیان کے مرکز کو سنبھالا بلکہ باوجود سخت مشکلات کے جماعت کے لئے ایک نئے مرکز کی طرح ڈالی۔آپ نے ضلع جھنگ میں ربوہ نام سے ایک بستی آباد کی ہے جس میں جماعت کے تمام دفاتر قائم ہو چکے ہیں اور اس کی آبادی بڑی سرعت سے بڑھ رہی ہے۔مملکت پاکستان میں آپ نے یہ ایک مثال قائم کی ہے کہ بلند ہمت انسان حکومت پر بوجھ نہیں ہوتے۔وہ دوسروں کے سہارے کی بجائے خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر سر بلند ہوتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی ترقی اور وسعت کے پیش نظر آپ نے جماعتی نظام کی سہولت کے لئے مختلف صیغہ جات قائم کئے ہیں۔ہر محکمہ کو نظارت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔۱۹۵۵ء میں آپ دوسری بار بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے جہاں آپ کی صدارت میں مغربی دنیا میں تبلیغ اسلام کی مہم تیز کرنے کے لئے ایک اہم کا نفرنس منعقد ہوئی اس سفر میں متعدد انگریز آپ کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل اسلام ہوئے۔۱۹۵۷ء میں آپ نے شدید بیماری کے باوجود قرآن مجید کی ایک مختصر مگر جامع اور معرکۃ الآرا