تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 210 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 210

تاریخ احمدیت۔جلد 23 210 سال 1965ء برصغیر پاک و ہند کی ایک مایہ ناز شخصیت اٹھ گئی قادیانی جماعت کے مشہور مذہبی و روحانی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد کا المناک انتقال اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے مرزا بشیر الدین محمود احمد بانی سلسلہ احمدیہ کے فرزندار جمند اور جماعت کے دوسرے خلیفہ تھے آپ کی پیدائش ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی۔احمدی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے آپ کی پیدائش سے پہلے ہی لوگوں کو بتلا دیا تھا کہ اللہ تعالی آپ کو ایک ایسا لڑکا عطا فرمائے گا۔(۱) جس کا نام محمود ہوگا۔وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا۔(۲) اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔آپ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کے زمانہ خلافت میں جو اکاون سال تک ممتد ہے دنیا کے ہر ایک حصہ میں تبلیغی مراکز قائم کئے گئے چنانچہ انگلستان، امریکہ، جرمنی ، ہالینڈ ، مغربی افریقہ، مشرقی افریقہ، بلاد عربیہ اور انڈونیشیا وغیرہ ممالک میں نوے سے زائد تبلیغی مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں تبلیغ اسلام کا کام وسیع پیمانہ پر ہورہا ہے۔علاوہ از میں آپ کے زمانہ میں متعدد غیر ملکی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع ہوئے اور بیرونی ممالک میں سینکڑوں مساجد تعمیر ہوئیں۔آپ نے اپنے پیچھے ہزار ہا صفحات کا ایک عظیم الشان لٹریچر یادگار چھوڑا ہے جو قریباً پونے دو سو کتب و رسائل پر مشتمل ہے اور جس میں تفسیر ، کلام، فقه، اخلاق، روحانیات، سیاسیات وغیرہ اہم مضامین پر مشتمل ہے۔اور نہایت قیمتی معلومات سے لبریز ہے۔آپ نے تبلیغ اسلام کے عظیم الشان کام کے ساتھ ساتھ دوسرے اہم امور میں بھی مسلمانوں کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں اور ہر موقعہ پر مسلمانوں کی دینی اور دنیوی بہبودی میں رہنمائی کی تدابیر اختیار کی ہیں۔۱۹۲۲-۲۳ء میں جب یو۔پی کے علاقہ میں فتنہ ارتداد کا زور ہوا۔اور آریہ سماج نے وہاں پر لاکھوں مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندو بنایا۔تو آپ ہی نے اس تحریک کا مقابلہ کر کے آریوں کو شکست دی۔آپ نے اپنی جماعت کے سینکڑوں افراد کو اس علاقہ میں بھجوایا۔جنہوں نے ہر طرح کی تکلیف برداشت کر کے آریہ سماج کی تحریک کو نا کام کیا۔اور وہ مسلمان جو ہندو ہو چکے تھے انہیں دوبارہ اسلام کا