تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 208
تاریخ احمدیت۔جلد 23 208 سال 1965ء لئے چنتی ہیں تو انہیں اپنے ملکی میز انیوں کا کتنا بڑا حصہ علیحدہ کر دینا پڑتا ہے۔لیکن اسلام کی تاریخ ہمیشہ اس بات پر مفتخر و نازاں رہے گی کہ اس کے اس صاحب نظر فرزند نے ان وسیع الذرائع حکومتوں کے سرکاری مذہب پر حملہ کرنے کے لئے اپنے صرف گزارہ الاؤنس پر آئے ہوئے متوکل علی اللہ شیروں کے ذریعہ اس بصیرت، حکمت اور جو رسی سے بھر پور وار کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر مقام سے تثلیث کا خیمہ اکھڑنے لگا۔یہاں تک کہ اسلام کے دیوانوں نے مادیت پرست فرزانوں کے ہر مرکز پر اسلام کا جھنڈ ا نصب کر دیا۔وہ رضائے خداوندی کے عطر سے ممسوح وجود جس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ہر طرف اسلام کا نور پھیلے۔ہر طرف قرآن کریم کی تنویر نظر آئے اور ہر ملک، ہر قریہ اور ہر بستی میں اُسی کے محبوب و مقبول رسول اور آقا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیجا جائے۔وہ ماہر نفسیات سلطان البیان جو روحوں کے رباب پر اس حسن سے نغمہ زنی کرتا تھا کہ روحیں اور دل جھنجھنا کر اپنے آپ کو بے تابانہ خدمت دین یزدانی کے لئے پیش کر دیا کرتے تھے۔وہ شہسوار ملک روحانیت جو سرتا پا شفقت تھا۔سراپا محبت تھا۔دلداری و دلنوازی جس کی طبیعت ثانیہ تھی۔اگر اسلام کے اس بلند حوصلہ اور جلیل القدر فرزند کے نگاہوں سے اوجھل ہو جانے پر بھی روحیں سو گوارا اور آنکھیں اشکبار نہ ہوتیں تو یقیناً مہر و وفا اور احسان شناسی کی اقدار سر پیٹ کر رہ جاتیں۔اور انسانیت اپنے آپ کو بے سہارا اور لاوارث محسوس کرنے لگتی۔اگر الہی تقدیروں کا رخ موڑا جا سکنا ممکن ہوتا۔اگر قضا و قدر کے فیصلوں کے لئے کسی قسم کی التجاو گزارش کی گنجائش ہوتی تو ہم اپنی زندگی کا نذرانہ پیش کر کے بھی اپنے رب سے التجا کرتے کہ وہ صرف ستر سال ہی کی عمر میں اسے اپنے پاس نہ بلالے۔لیکن اس قادر و توانا کے حضور ایسے کسی قیاس کی بھی کہاں گنجائش و مجال ہے۔اور یوں بھی ایک سچے مسلمان کے لئے جو اسلام ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا ہو۔اپنے جلیل و قدیر خدا کی رضا کے حصول سے بڑھ کر کونسی شے ہے۔لہذا ہم اُسی کے ارشادِ پاک کے تحت انا لله و انا الیه راجعون پڑھتے ہوئے اُس سے یہی التجا کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں کہ اے ہمارے مالک و مختار خدا! تو اپنے اس محبوب بندے کو اس کی نیکیوں کے بہترین اجر دیتے ہوئے اسے اس کے حبیب پاک (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی قربت خاص سے نواز ئیو۔اور اس کی امنگوں اور آرزوؤں کو اپنے فضل سے شرف قبولیت بخشتے ہوئے اس کے تمام ارادتمندوں کے دلوں